🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب ما لقي النبي صلى الله عليه وسلم من اذى المشركين والمنافقين:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں اور منافقوں کے ہاتھ سے جو تکلیف پائی اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1794 ترقیم شاملہ: -- 4649
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، وَقَدْ نُحِرَتْ جَزُورٌ بِالْأَمْسِ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى سَلَا جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَأْخُذُهُ فَيَضَعُهُ فِي كَتِفَيْ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ، فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَأَخَذَهُ، فَلَمَّا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، قَالَ: فَاسْتَضْحَكُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَمِيلُ عَلَى بَعْضٍ وَأَنَا قَائِمٌ أَنْظُرُ لَوْ كَانَتْ لِي مَنَعَةٌ طَرَحْتُهُ عَنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْطَلَقَ إِنْسَانٌ فَأَخْبَرَ فَاطِمَةَ، فَجَاءَتْ وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ فَطَرَحَتْهُ عَنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَشْتِمُهُمْ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ رَفَعَ صَوْتَهُ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِمْ، وَكَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلَاثًا وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا سَمِعُوا صَوْتَهُ ذَهَبَ عَنْهُمُ الضِّحْكُ وَخَافُوا دَعْوَتَهُ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَذَكَرَ السَّابِعَ وَلَمْ أَحْفَظْهُ، فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ سَمَّى صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ، قَلِيبِ بَدْرٍ "، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ غَلَطٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
زکریا (بن ابی زائدہ) نے ابواسحاق سے، انہوں نے عمرو بن میمون اودی سے، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، ابوجہل اور اس کے ساتھی بھی بیٹھے ہوئے تھے، اور ایک دن پہلے ایک اونٹنی ذبح ہوئی تھی۔ ابوجہل نے کہا: تم میں سے کون اٹھ کر بنی فلاں کے محلے سے اونٹنی کی بچے والی جھلی (بچہ دانی) لائے گا اور محمد سجدے میں جائیں تو اس کو ان کے کندھوں کے درمیان رکھ دے گا؟ قوم کا سب سے بدبخت شخص (عقبہ بن ابی معیط) اٹھا اور اس کو لے آیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے وہ جھلی آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا، پھر وہ آپس میں خوب ہنسے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ میں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا، کاش! مجھے کچھ بھی تحفظ حاصل ہوتا تو میں اس جھلی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اٹھا کر پھینک دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے۔ اپنا سر مبارک نہیں اٹھا رہے تھے، حتی کہ ایک شخص نے جا کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی، وہ آئیں، حالانکہ وہ اس وقت کم سن بچی تھیں، انہوں نے وہ جھلی اٹھا کر آپ سے دور پھینکی۔ پھر وہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور انہیں سخت سست کہا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بآواز بلند ان کے خلاف دعا کی، آپ جب کوئی دعا کرتے تھے تو تین مرتبہ دہراتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کچھ مانگتے تو تین بار مانگتے تھے، پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! قریش پر گرفت فرما۔ جب قریش نے آپ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی جاتی رہی اور وہ آپ کی بددعا سے خوف زدہ ہو گئے۔ آپ نے پھر بددعا فرمائی: اے اللہ! ابوجہل بن ہشام پر گرفت فرما اور عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عقبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط پر گرفت فرما۔ (ابواسحاق نے کہا:) انہوں (عمرو بن میمون) نے ساتویں شخص کا نام بھی لیا تھا لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہا (بعد ازاں ابواسحاق کو ساتویں شخص عمارہ بن ولید کا نام یاد آ گیا تھا، صحیح البخاری، حدیث: 520)۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:) اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! جن کا آپ نے نام لیا تھا میں نے بدر کے دن ان کو مقتول پڑے دیکھا، پھر ان سب کو گھسیٹ کر کنویں، بدر کے کنویں کی طرف لے جایا گیا اور انہیں اس میں ڈال دیا گیا۔ ابواسحاق نے کہا: اس حدیث میں ولید بن عقبہ (کا نام) غلط ہے۔ (صحیح ولید بن عتبہ ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4649]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، ابوجہل اور اس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے اور گزشتہ کل ایک اونٹنی ذبح کی گئی تھی تو ابوجہل نے کہا تم میں سے کون، بنو فلاں کی اونٹنی کی بچہ دانی اٹھا لائے گا اور جب محمد سجدہ کرے گا تو اس کے کندھوں کے درمیان رکھ دے گا؟ تو سب سے بدبخت شخص اٹھا اور اسے اٹھا لایا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا اور وہ ایک دوسرے کو ہنسانے لگے اور ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو کر ایک دوسرے پر گرنے لگے، حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا یہ منظر دیکھ رہا تھا، اگر مجھے تحفظ اور پناہ حاصل ہوتی تو میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے پھینک دیتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں پڑے ہوئے تھے، اپنا سر نہیں اٹھا رہے تھے حتی کہ ایک آدمی گیا اور اس نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اطلاع دی، وہ آئیں جبکہ وہ ایک نوخیز بچی تھیں اور انہوں نے آپ سے اسے پھینک دیا، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر انہیں برا بھلا کہنے لگیں تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے بلند آواز سے ان کے خلاف دعا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا فرماتے تو تین دفعہ دعا فرماتے اور جب مانگتے تو تین دفعہ مانگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے اللہ! قریش کا مؤاخذہ فرما۔ تین دفعہ فرمایا تو جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی تو ان کی ہنسی بند ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے خوف زدہ ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابوجہل بن ہشام کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عقبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ راوی کہتے ہیں، استاد نے ساتویں کا نام لیا، مجھے یاد نہیں رہا، اس ذات کی قسم، جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا، میں نے ان لوگوں کو جن کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لیے تھے، بدر کے دن گرے ہوئے دیکھا، پھر انہیں کھینچ کر، بدر کے کچے کنویں میں پھینک دیا گیا، ابو اسحاق کہتے ہیں، اس حدیث میں ولید بن عقبہ کا نام غلط ہے، (کیونکہ وہ ولید بن عتبہ تھا) [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4649]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1794 ترقیم شاملہ: -- 4650
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ، إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَا جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ، أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ شُعْبَةُ الشَّاكُّ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ، غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيًّا تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ "،
شعبہ نے کہا: میں نے ابواسحاق سے سنا، وہ عمرو بن میمون سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ (ایک بار) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے اور آپ کے گرد قریش کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط ایک ذبح کی ہوئی اونٹنی کی بچے والی جھلی لے کر آیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر پھینک دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سجدے سے) سر نہ اٹھایا، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور اس جھلی کو آپ کی پشت سے اٹھایا اور جن لوگوں نے یہ حرکت کی تھی ان کو بددعا دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے بارے میں) فرمایا: اے اللہ! قریش کے اس گروہ پر گرفت فرما، ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط اور امیہ بن خلف یا ابی بن خلف۔۔ شعبہ کو شک ہے۔۔ پر گرفت فرما! (حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے ان کو دیکھا، وہ جنگ بدر کے دن قتل کیے گئے اور ان کو کنویں میں ڈال دیا گیا، البتہ امیہ بن خلف یا ابی بن خلف کے جوڑ جوڑ کٹ چکے تھے، اسے (گھسیٹ کر) کنویں میں نہیں ڈالا جا سکا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4650]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد کچھ قریشی لوگ بیٹھے ہوئے تھے، اچانک عقبہ بن ابی معیط اونٹنی کی بچہ دانی اٹھا لایا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر پھینک دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر نہ اٹھایا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آئیں اور انہوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اٹھایا اور یہ حرکت کرنے والوں کو بددعا دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ، قریش کی جمیعت پر گرفت فرما، ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف یا ابی بن خلف (شعبہ کو شک ہے) پر گرفت فرما۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، میں نے ان کو بدر کے دن مقتول دیکھا اور انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، مگر امیہ یا ابی کے جوڑ الگ الگ ہو گئے تو اسے کنویں میں نہ ڈالا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4650]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1794 ترقیم شاملہ: -- 4651
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَزَادَ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ ثَلَاثًا، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ " ثَلَاثًا، وَذَكَرَ فِيهِمْ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ وَلَمْ يَشُكَّ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَنَسِيتُ السَّابِعَ.
سفیان نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ تین بار (دعا کرنا) پسند فرماتے تھے، اور آپ نے تین بار فرمایا: اے اللہ! قریش پر گرفت فرما، اے اللہ! قریش پر گرفت فرما، اے اللہ! قریش پر گرفت فرما اور اس میں ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف کا نام لیا (ابی بن خلف اور امیہ بن خلف کے ناموں میں) شک نہیں کیا، ابواسحاق نے کہا: ساتواں شخص میں بھول گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4651]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد ابو اسحاق کی مذکورہ بالا سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دفعہ دعا کرنا پسند فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! قریش کی گرفت فرما، اے اللہ! قریش کا مؤاخذہ فرما، اے اللہ! تو قریش کو پکڑ۔ تین دفعہ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف کا ذکر کیا، راوی نے شک کا اظہار نہیں کیا۔ (کہ امیہ یا ابی) اور ابو اسحاق نے کہا میں ساتویں کا نام بھول گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4651]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1794 ترقیم شاملہ: -- 4652
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَدَعَا عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ قَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا ".
زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابواسحاق نے عمرو بن میمون سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے قریش کے چھ آدمیوں کے خلاف بددعا کی، ان میں ابوجہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط تھے۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں: میں نے ان کو بدر (کے میدان) میں اوندھے پڑے ہوئے دیکھا، دھوپ نے ان (کے لاشوں) کو متغیر کر دیا تھا اور وہ ایک گرم دن تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4652]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے قریش کے چھ افراد کے خلاف دعا کی، ان میں ابوجہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ ابن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط داخل ہیں، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بدر کے میدان میں گرے پڑے دیکھا، سورج کی تپش نے ان کے رنگ بدل ڈالے تھے اور وہ سخت گرم دن تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4652]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں