صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
44. باب غزوة الاحزاب وهي الخندق:
باب: غزوہ احزاب یعنی جنگ خندق کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1803 ترقیم شاملہ: -- 4670
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَلَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْتَ، مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، إِنَّ الْأُلَى قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ: إِنَّ الْمَلَا قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا "، وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ،
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مٹی اٹھا کر پھینک رہے تھے، (اس) مٹی نے بطن مبارک کی سفیدی کو چھپا لیا تھا اور آپ فرما رہے تھے: ”اللہ کی قسم! اگر تیرا کرم نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ کرتے، نہ نماز پڑھتے۔ ہم پر ضرور بالضرور سکینت نازل فرما۔ ان لوگوں نے ہم پر ظلم کیا ہے۔“ کہا: بسا اوقات آپ فرماتے: ”ان سرداروں نے ہم پر (اپنا ظلم روکنے سے) انکار کر دیا، جب وہ فتنے کا ارادہ کرتے ہیں ہم اس (میں پڑنے) سے انکار کر دیتے ہیں۔“ آپ ان (الفاظ) پر اپنی آواز کو بلند فرما لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4670]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مٹی منتقل کر رہے تھے، جبکہ مٹی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی کو چھپا رکھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «وَاللّٰهِ لَوْلَا اللّٰهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا» ”اللہ کی قسم! (اے اللہ) اگر تو نہ ہوتا، تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ ہم صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے، سو اے اللہ! ہم پر سکینت نازل فرما۔“ ان لوگوں نے ہمارا دین قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، (پاکستانی نسخہ کے مطابق: وہ لوگ ہم پر چڑھ دوڑے ہیں) اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرماتے: ”اس جمعیت یا سرداروں نے ہماری بات ماننے سے انکار کر دیا ہے، جب وہ ہمیں دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں، ہم انکار کر دیتے ہیں“، ان الفاظ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4670]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1803
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1803 ترقیم شاملہ: -- 4671
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا.
عبدالرحمان بن مہدی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا۔۔ انہوں نے اسی کے مانند بیان کیا، البتہ (اس روایت کے مطابق) انہوں نے کہا: ”بلاشبہ ان لوگوں نے ہم پر زیادتی کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4671]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک دوسرے استاد کی سند سے نقل کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے، اس میں «قَدْ أَبَوْا» ”وہ انکار کر چکے“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4671]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1803
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة