🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب تحريم اكل لحم الحمر الإنسية:
باب: بستی کے گدھوں کا گوشت حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1937 ترقیم شاملہ: -- 5010
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ: أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَصَبْنَا لِلْقَوْمِ حُمُرًا خَارِجَةً مِنْ الْمَدِينَةِ، فَنَحَرْنَاهَا فَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلَا تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا، فَقُلْتُ: حَرَّمَهَا تَحْرِيمَ مَاذَا؟، قَالَ: تَحَدَّثْنَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: حَرَّمَهَا أَلْبَتَّةَ وَحَرَّمَهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ ".
علی بن مسہر نے شیبانی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے کہا: خیبر کے دن ہم بھوک کا شکار تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہمیں ان لوگوں (یہودیوں) کے گدھے شہر سے باہر نکلتے ہوئے مل گئے۔ ہم نے ان کو ذبح کر لیا، ہماری ہانڈیاں (ان کے پکتے ہوئے گوشت سے) ابل رہی تھیں کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا: ہانڈیاں الٹ دو اور گدھوں کے گوشت میں سے کوئی چیز نہ کھاؤ۔ میں نے پوچھا: آپ نے ان کو کیسا حرام کیا تھا (قطعی یا غیر قطعی؟) انہوں نے کہا: (اس حوالے) سے ہماری آپس میں بات چیت ہوتی تھی تو ہم (باہم یہی کہتے کہ آپ نے ان کو قطعی طور پر حرام کیا اور اس وجہ سے (انہیں ہمیشہ کے لیے) حرام کیا تھا کہ ان کے پانچ حصے نہیں کیے گئے تھے (خمس الگ نہیں کیا گیا تھا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5010]
شیبانی بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے گھریلو گدھوں کے گوشت کے بارے میں دریافت کیا؟ انہوں نے بتایا، ہمیں خیبر کے دن بھوک لگی، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم نے یہودیوں کے شہر سے باہر نکلنے والے گدھے پکڑ کر ذبح کر لیے، جن سے ہماری ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں، مگر اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے اعلان کر دیا، ہانڈیوں کو الٹ دو اور گدھوں کا گوشت بالکل نہ کھاؤ، میں نے پوچھا، آپ نے اسے کس انداز سے حرام قرار دیا ہے؟ انہوں نے کہا، ہم نے اس پر باہمی گفتگو کرتے ہوئے کہا، آپ نے قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے اور اس لیے حرام قرار دیا ہے کہ اس سے خمس (پانچواں حصہ) نہیں نکالا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5010]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1937
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1937 ترقیم شاملہ: -- 5011
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ لَيَالِيَ خَيْبَر، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَر وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَانْتَحَرْنَاهَا، فَلَمَّا غَلَتْ بِهَا الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا "، قَالَ: فَقَالَ نَاسٌ: إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ، وَقَالَ آخَرُونَ: نَهَى عَنْهَا أَلْبَتَّةَ.
عبدالواحد بن زیاد نے کہا: ہمیں سلیمانی شیبانی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: جنگ خیبر کی راتوں میں ہم بھوک کا شکار ہو گئے۔ جب خیبر کی جنگ کا دن آیا تو ہم پالتو گدھوں پر ٹوٹ پڑے جب ہماری ہانڈیاں ان کے گوشت ابلنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کر دیا کہ ہانڈیاں الٹ دو، پالتو گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ۔ اس وقت بعض لوگوں (صحابہ) نے کہا کہ ان سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ ان کا خمس نہیں نکالا گیا اور بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قطعی طور پر حرام کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5011]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، خیبر کے دنوں میں ہم بھوک سے دوچار ہوئے، جب خیبر کا واقعہ پیش آیا، ہم گھریلو گدھوں پر ٹوٹ پڑے اور انہیں نحر کیا، جب ان سے ہنڈیاں ابلنے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا، ہانڈیوں کو انڈیل دو اور گدھوں کے گوشت سے کچھ نہ کھاؤ، تو کچھ لوگوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے ان سے روکا ہے، کیونکہ ان کا خمس نہیں نکالا گیا اور دوسروں نے کہا، آپ نے ان سے ہمیشہ کے لیے روک دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5011]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1937
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں