صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب إباحة النبيذ الذي لم يشتد ولم يصر مسكرا:
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2005 ترقیم شاملہ: -- 5231
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيَّ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيَّ ، قَالَ: لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَن النَّبِيذِ، فَدَعَتْ عَائِشَةُ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً، فَقَالَتْ: سَلْ هَذِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ الْحَبَشِيَّةُ : " كُنْتُ أَنْبِذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ وَأُوكِيهِ وَأُعَلِّقُهُ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ ".
ثمامہ یعنی ابن حزن قشیری نے حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گیا تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک حبشی کنیز کو آواز دی اور فرمایا: اس سے پوچھو، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ بنایا کرتی تھی۔ اس حبشی لڑکی نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو ایک مشک میں (پھل) ڈال دیتی تھی اور اس مشک کا منہ باندھ کر اس کو لٹکا دیتی تھی، جب صبح ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے نوش فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5231]
ثمامہ یعنی ابن حزن قشیری بیان کرتے ہیں، میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملا اور ان سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے ایک حبشی لونڈی کو بلوایا اور فرمایا: اس سے پوچھو، کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ بناتی تھی، اس حبشی لڑکی نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو مشکیزہ میں نبیذ بناتی، اس کا منہ باندھ دیتی اور اسے لٹکا دیتی، جب صبح ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پی لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5231]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2005
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2005 ترقیم شاملہ: -- 5232
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَى أَعْلَاهُ، وَلَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً، فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ".
حسن کی والدہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ بناتے، اس کا اوپر کا حصہ باندھ دیا جاتا تھا، اس میں نچلی طرف کا سوراخ بھی تھا۔ ہم صبح کو (کھجور یا کشمش) ڈالتے تو آپ اسے رات کو نوش فرماتے اور رات کے وقت ڈالتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نوش فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5232]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشکیزہ میں نبیذ بناتے تھے، جس کے اوپر والے حصے کا منہ باندھ دیا جاتا تھا، اس کے نیچے سوراخ تھا، ہم اس میں صبح نبیذ بناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام تک پیتے اور رات کو بناتے تو صبح تک پیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5232]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2005
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة