صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب الأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِغْلاَقِ الأَبْوَابِ وَذِكْرِ اسْمِ اللَّهِ عَلَيْهَا وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ:
باب: سوتے وقت برتنوں کو ڈھانکنے، مشکیزوں کے منہ باندھنے، دروازوں کو بند کرنے،، چراغ بجھانے، بچوں اور جانوروں کو مغرب کے بعد باہر نہ نکلالنے کے استحباب کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2014 ترقیم شاملہ: -- 5255
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ، فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ أَوْ سِقَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ، إِلَّا نَزَلَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ ".
ہاشم بن قاسم نے کہا: ہمیں لیث بن سعد نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد لیثی نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے جعفر بن عبداللہ بن حکم سے، انہوں نے قعقاع بن حکیم سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”برتن ڈھانک دو، مشکیزے کا منہ باندھ دو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے۔ پھر جو بھی ان ڈھکے برتن اور منہ کھلے مشکیزے کے پاس سے گزرتی ہے، تو اس وبا میں سے (کچھ حصہ) اس میں اتر جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5255]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”برتن ڈھانپ دو، مشکیزے کا منہ باندھ دو، کیونکہ سال میں ایک رات ہے، اس میں عام بیماری اترتی ہے، وہ جس ایسے برتن سے گزرتی ہے، جس پر ڈھکنا نہیں ہوتا یا ایسے مشکیزے سے جس کا منہ بندھا نہیں ہوتا تو اس وبا سے کچھ حصہ ان میں اترتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5255]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2014
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2014 ترقیم شاملہ: -- 5256
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَإِنَّ فِي السَّنَةِ يَوْمًا يَنْزِلُ فِيهِ وَبَاءٌ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ، قَالَ اللَّيْثُ: فَالْأَعَاجِمُ عِنْدَنَا يَتَّقُونَ ذَلِكَ فِي كَانُونَ الْأَوَّلِ.
علی جہضمی نے کہا: ہمیں لیث بن سعد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انہوں نے اس (حدیث) میں یہ کہا: ”سال میں ایک ایسا دن ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے۔“ (علی نے) حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا: لیث نے کہا: ہمارے ہاں کے عجمی لوگ کانون اول (یعنی دسمبر) میں اس وبا سے بچتے ہیں (بچنے کے حیلے کرتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5256]
امام صاحب ایک اور استاد سے لیث بن سعد رحمہ اللہ ہی کی سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، مگر اتنا فرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سال میں ایک دن ہے جس میں وبا اترتی ہے“ اور حدیث کے آخر میں یہ اضافہ ہے، لیث رحمہ اللہ نے کہا: ”عجمی لوگ اس کا اندیشہ کانونِ اول (دسمبر) میں رکھتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2014
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة