🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب استحباب إدارة الماء واللبن ونحوهما عن يمين المبتدئ:
باب: دودھ یا پانی یا کوئی چیز شروع کرنے والے کے داہنی طرف سے تقسیم کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2029 ترقیم شاملہ: -- 5289
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں (ٹھنڈا کرنے کے لئے) پانی ملایا گیا تھا۔ آپ کی دائیں طرف ایک اعرابی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: دایاں، اس کے بعد پھر دایاں (مقدم ہوگا) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5289]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی کی آمیزش تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک اعرابی تھا، اور بائیں طرف ابوبکر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: دایاں، پھر دایاں یعنی دائیں کو پہلے دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2029
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2029 ترقیم شاملہ: -- 5290
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنَنِي عَلَى خِدْمَتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ، " فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ شِمَالِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ أَبَا بَكْر ٍ، فَأَعْطَاهُ أَعْرَابِيًّا عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ".
سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں دس برس کا تھا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا۔ میری مائیں (والدہ، خالائیں، پھوپھیاں) مسلسل مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کا شوق دلایا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں گھر کے کنوئیں کا پانی ملایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اور اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب تھے۔ اللہ کے رسول! ابوبکر کو عنایت فرما دیجئے، لیکن آپ نے وہ (دودھ کا برتن) اپنی دائیں جانب (بیٹھے ہوئے) بدو کو تھما دیا اور فرمایا: دایاں، پھر (اس کے بعد والا) دایاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5290]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے جبکہ میں دس سال کا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے، جبکہ میں بیس سال کا تھا اور میری مائیں مجھے آپ کی خدمت پر ابھارتی تھیں۔ آپ ہمارے ہاں ہمارے گھر میں داخل ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھریلو بکری دوہی اور اس میں گھر کے کنویں سے پانی ملایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے کہا: ـــــــ جبکہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف تھے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوبکر کو دیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اعرابی کو دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دائیں کو پہلے پس دائیں کو پہلے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5290]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2029
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2029 ترقیم شاملہ: -- 5291
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَبِي طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَاسْتَسْقَى فَحَلَبْنَا لَهُ شَاةً، ثُمَّ شُبْتُهُ مِنْ مَاءِ بِئْرِي هَذِهِ، قَالَ: فَأَعْطَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ وِجَاهَهُ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شُرْبِهِ، قَالَ عُمَرُ: هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُرِيهِ إِيَّاهُ، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابِيَّ وَتَرَكَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ "، قَالَ أَنَسٌ: فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ.
ابوطوالہ عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری سے روایت ہے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں آئے اور پانی مانگا۔ ہم نے بکری کا دودھ دوہا، پھر اس میں اپنے اس کنوئیں سے پانی ملایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سامنے اور دائیں طرف ایک اعرابی تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیر ہو کر پی لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (باقی) اعرابی کو دیا اور سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیا اور فرمایا: دائیں طرف والے مقدم ہیں دائیں طرف والے، پھر دائیں طرف والے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سنت ہے، یہ سنت ہے، یہ سنت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2029
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں