صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب إكرام الضيف وفضل إيثاره:
باب: مہمان کی خاطرداری کرنا چاہئے۔
ترقیم عبدالباقی: 2057 ترقیم شاملہ: -- 5365
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ الْمُعْتَمِرِ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذ ٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا نَاسًا فُقَرَاءَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَلَاثَةٍ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ بِسَادِسٍ " أَوْ كَمَا قَالَ، وَإِنَّ أَبَا بَكْر ٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ، وَانْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَأَبُو بَكْرٍ بِثَلَاثَةٍ، قَالَ: فَهُوَ وَأَنَا وَأَبِي وَأُمِّي، وَلَا أَدْرِي هَلْ قَالَ: وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْتِ أَبِي بَكْرٍ؟، قَالَ: وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ ثُمَّ رَجَعَ، فَلَبِثَ حَتَّى نَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بَعْدَمَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ؟ قَالَ: أَوَ مَا عَشَّيْتِهِمْ، قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ، قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ، وَقَالَ يَا غُنْثَرُ: فَجَدَّعَ وَسَبَّ، وَقَالَ: كُلُوا لَا هَنِيئًا، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا، قَالَ: فَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرَ مِنْهَا، قَالَ: حَتَّى شَبِعْنَا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ، قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا قَالَتْ؟ لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ، قَالَ: فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ، قَالَ: وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ، فَمَضَى الْأَجَلُ فَعَرَّفْنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ إِلَّا أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ، فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ كَمَا قَالَ.
معمر بن سلیمان کے والد نے کہا: ہمیں ابوعثمان نے حدیث بیان کی کہ انہیں حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اصحاب صفہ محتاج لوگ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا: ”جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تین (تیسرے: صحیح بخاری: 602) کو لے جائے۔ اور جس کے پاس چار کا ہو وہ پانچویں یا چھٹے کو بھی لے جائے۔“ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمیوں کو لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمیوں کو لے گئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال بھی دس کے قریب تھے تو گویا آدھا کھانا مہمانوں کے لیے ہوا)۔ سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارے گھر میں کوئی نہیں تھا سوائے میرے باپ اور میری ماں کے۔ راوی نے کہا کہ شاید اپنی بیوی کا بھی کہا اور ایک خادم جو میرے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا۔ سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رات کا کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا، پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھی گئی۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ گئے اور وہیں رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ غرض بڑی رات گزرنے کے بعد جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر آئے اور ان کی بیوی نے کہا کہ تم اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر کہاں رہ گئے تھے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے ان کو کھانا نہیں کھلایا؟ انہوں نے کہا کہ مہمانوں نے تمہارے آنے تک نہیں کھایا اور انہوں نے مہمانوں کے سامنے کھانا پیش کیا تھا لیکن مہمان ان پر نہ کھانے میں غالب ہوئے۔ سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ناراضگی کے ڈر سے) چھپ گیا تو انہوں نے مجھے پکارا کہ اے سست مجہول یا احمق! تیری ناک کٹے اور مجھے برا کہا اور مہمانوں سے کہا کہ کھاؤ اگرچہ یہ کھانا خوشگوار نہیں ہے (کیونکہ بے وقت ہے)۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اللہ کی قسم میں اس کو کبھی بھی نہ کھاؤں گا۔ سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم جو لقمہ اٹھاتے نیچے وہ کھانا اتنا ہی بڑھ جاتا، یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے اور کھانا جتنا پہلے تھا اس سے بھی زیادہ ہو گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کھانے کو دیکھا کہ وہ اتنا ہی ہے یا زیادہ ہو گیا ہے تو انہوں نے اپنی عورت سے کہا کہ اے بنی فراس کی بہن یہ کیا ہے؟ وہ بولی کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) کہ یہ تو پہلے سے بھی زیادہ (ہو گیا) ہے تین حصے زیادہ ہے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کھایا اور کہا کہ میں نے جو قسم کھائی تھی وہ (غصے میں) شیطان کی طرف سے تھی۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا، اس کے بعد وہ کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ میں بھی صبح کو وہیں تھا اور ہمارے اور ایک قوم کے درمیان عقد تھا (یعنی صلح کا اقرار تھا)، پس اقرار کی مدت گزر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ آدمی ہمارے افسر کیے اور ہر ایک کے ساتھ لوگ تھے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہر ایک کے ساتھ کتنے لوگ تھے۔ پھر وہ کھانا ان کے ساتھ کر دیا اور سب لوگوں نے اس میں سے کھایا۔ یا جس طرح انہوں نے بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5365]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ محتاج لوگ تھے، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہے، وہ تین کو لے اور جس کے پاس چار کا کھانا، وہ پانچواں چھٹا لے جائے۔“ یا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین افراد کو لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس افراد کو لے گئے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین افراد لائے، کیونکہ گھر میں میں، میرا باپ اور میری ماں تھے، (اور عبدالرحمٰن کے شاگرد کہتے ہیں) میں نہیں جانتا، کیا انہوں نے کہا، میری بیوی اور ہمارے دونوں گھروں کا مشترکہ خادم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام کا کھانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کھایا، پھر عشاء کی نماز پڑھنے تک وہیں ٹھہرے رہے، پھر دوبارہ وہیں آئے، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے لگے اور جس قدر اللہ کو منظور تھا، اتنی رات گزرنے کے بعد آئے، ان کی بیوی نے ان سے کہا، اپنے مہمانوں یا مہمان سے کیوں رکے رہے؟ انہوں نے پوچھا کہ یا تم نے ان کو شام کا کھانا نہیں کھلایا؟ اس نے کہا: انہوں نے آپ کی آمد تک انکار کیا، گھر والوں نے ان کے سامنے پیش کیا تھا اور وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے، عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں جا کر چھپ گیا، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے احمق، نادان، تیری ناک کٹے اور برا بھلا کہا اور مہمانوں کو کہا: کھاؤ، یہ تمہارے لیے خوش گوار نہ ہو اور کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھی اس کو نہیں کھاؤں گا اور اللہ کی قسم! ہم جو لقمہ اٹھاتے، اس سے زیادہ نیچے سے ابھر آتا، حتی کہ ہم سیر ہو گئے اور وہ پہلے سے زیادہ ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر نظر دوڑائی تو وہ اتنا ہی یا اس سے زیادہ تھا، انہوں نے اپنی بیوی سے کہا: اے بنو فراس کے فرد! یہ کیا ہوا؟ اس نے کہا: نہیں، میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم! یہ اب پہلے سے تین گنا زیادہ ہے اور اس سے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کھایا اور فرمایا: وہ قسم تو شیطانی کام تھا، پھر اس سے لقمہ اٹھایا، پھر اسے اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، وہ صبح تک آپ کے پاس رہا، ہمارے اور ایک قوم کے درمیان معاہدہ تھا، مدت گزر گئی اور ہم نے بارہ نگران مقرر کیے، ہر آدمی کے ماتحت لوگ تھے، اللہ ہی جانتا ہے، ہر ایک آدمی کے تحت کتنے لوگ تھے، اتنی بات ہے کہ آپ نے کھانا ان کے ساتھ بھیجا اور ان سب نے اس سے کھایا، یا جو الفاظ استاد نے کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5365]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2057
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2057 ترقیم شاملہ: -- 5366
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا، قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ، وَقَالَ: " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ، قَالَ: فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْنَا بِقِرَاهُمْ، قَالَ: فَأَبَوْا، فَقَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ أَبُو مَنْزِلِنَا فَيَطْعَمَ مَعَنَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ أَذًى، قَالَ: فَأَبَوْا فَلَمَّا جَاءَ لَمْ يَبْدَأْ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَفَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ؟، قَالَ: قَالُوا: لَا وَاللَّهِ مَا فَرَغْنَا، قَالَ: أَلَمْ آمُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ، قَالَ: فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي إِلَّا جِئْتَ، قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا لِي ذَنْبٌ هَؤُلَاءِ أَضْيَافُكَ، فَسَلْهُمْ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا حَتَّى تَجِيءَ، قَالَ: فَقَالَ: مَا لَكُمْ أَنْ لَا تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ؟، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَوَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَقَالُوا: فَوَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ كَالشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ، وَيْلَكُمْ مَا لَكُمْ أَنْ لَا تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ؟، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَمَّا الْأُولَى فَمِنَ الشَّيْطَانِ هَلُمُّوا قِرَاكُمْ، قَالَ: فَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَسَمَّى فَأَكَلَ وَأَكَلُوا، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَرُّوا وَحَنِثْتُ، قَالَ: فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَخْيَرُهُمْ "، قَالَ: وَلَمْ تَبْلُغْنِي كَفَّارَةٌ.
جریری نے ابوعثمان سے، انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہمارے ہاں ہمارے کچھ مہمان آئے، میرے والد رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر گفتگو کیا کرتے تھے، وہ چلے گئے اور مجھ سے فرمایا: عبدالرحمان! تم اپنے مہمانوں کی سب خدمت بجا لانا۔ جب شام ہوئی تو ہم نے (ان کے سامنے) کھانا پیش کیا، کہا: تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: جب گھر کے مالک (بچوں کے والد) آئیں گے اور ہمارے ساتھ کھانا کھائیں گے (ہم اس وقت کھانا کھائیں گے۔) کہا: میں نے ان کو بتایا کہ وہ (میرے والد) تیز مزاج آدمی ہیں، اگر تم نے کھانا نہ کھایا تو مجھے خدشہ ہے کہ مجھے ان کی طرف سے سزا ملے گی۔ کہا: لیکن وہ نہیں مانے، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو ان (کے متعلق پوچھنے) سے پہلے انہوں نے کوئی (اور) بات شروع نہ کی۔ انہوں نے کہا: مہمانوں (کی میزبانی) سے فارغ ہو گئے ہو؟ گھر والوں نے کہا: واللہ! ابھی ہم فارغ نہیں ہوئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں نے عبدالرحمان کو کہا نہیں تھا؟ (حضرت عبدالرحمان نے) کہا: میں ایک طرف ہٹ گیا انہوں نے آواز دی: عبدالرحمان! میں کھسک گیا۔ پھر انہوں نے کہا: اے احمق! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو آ جا۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آ گیا اور میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ ہیں آپ کے مہمان ان سے پوچھ لیجیے، میں ان کا کھانا ان کے پاس لایا تھا، انہوں نے آپ کے آنے تک کھانے سے انکار کر دیا، (عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو انہوں (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے (ان سے) کہا: کیا بات ہے؟ تم نے ہمارا پیش کیا ہوا کھانا کیوں قبول نہیں کیا؟ (عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں آج رات یہ کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک آپ نہیں کھاتے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شر جیسا (شر)، اس رات جیسی (رات) میں نے کبھی نہیں دیکھی، تم لوگوں پر افسوس! تمہیں کیا ہے؟ تم لوگوں نے ہماری دعوت قبول کیوں نہیں کی؟ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: (میری) پہلی بات (نہ کھانے کی قسم) شیطان کی طرف سے (ابھارنے پر) تھی۔ چلو، اپنا میزبانی کا کھانا لاؤ۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر کھانا لایا گیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا صبح ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اللہ کے رسول! ان لوگوں نے قسم پوری کر لی اور میں نے توڑ دی (کہا) پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”نہیں، تم ان سے بڑھ کر قسم پوری کرنے والے ہو، ان سے بہتر ہو،“ (حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: مجھ تک کفارہ دینے کی بات نہیں پہنچی (مجھے معلوم نہیں کہ میرے والد نے کفارہ دیا یا کب دیا۔) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5366]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: ہمارے ہاں مہمان آئے اور میرے والد رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر گفتگو کیا کرتے تھے، اس لیے وہ چلے گئے اور مجھے کہہ گئے: اے عبدالرحمٰن! اپنے مہمانوں سے فارغ ہو جانا، یعنی ان کی ضیافت کرنا تو جب شام ہو گئی، ہم نے انہیں ان کی ضیافت پیش کی، انہوں نے (کھانے سے) انکار کر دیا، کہنے لگے: گھر کا مالک آ کر ہمارے ساتھ کھانا کھائے تو ہم تب کھائیں گے، میں نے ان سے کہا: وہ سخت گیر آدمی ہے اور اگر تم نے کھانا نہ کھایا تو مجھے خطرہ ہے کہ تو وہ مجھے سزا دیں گے، یعنی مجھے ان سے تکلیف برداشت کرنی پڑے گی، انہوں نے پھر بھی انکار کر دیا تو جب وہ آئے، ان کے بارے میں سوال کرنے سے پہلے کوئی گفتگو نہیں کی، پوچھا: کیا تم اپنے مہمانوں سے فارغ ہو گئے ہو؟ گھر والوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم فارغ نہیں ہوئے، انہوں نے کہا: کیا میں عبدالرحمٰن کو حکم دے کر نہیں گیا تھا؟ اور میں ان سے ایک طرف ہٹ گیا، انہوں نے کہا: اے عبدالرحمٰن! تو میں دور ہٹ گیا، انہوں نے کہا: اے احمق، کمینے، میں تمہیں قسم دیتا ہوں، اگر میری آواز سن رہے ہو تو آ جاؤ، تو میں حاضر ہو گیا اور عرض کیا: اللہ کی قسم! میرا کوئی قصور نہیں، یہ آپ کے مہمان ہیں، ان سے پوچھ لیجئے، میں نے انہیں ان کی ضیافت پیش کی تھی، انہوں نے آپ کی آمد تک کھانے سے انکار کر دیا تو ابوبکر نے ان سے پوچھا: تم نے ہماری ضیافت قبول کرنے سے کیوں انکار کیا اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آج رات میں کھانا نہیں کھاؤں گا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم بھی اسے نہیں کھائیں گے، جب تک آپ اسے نہیں کھاتے، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: آج کی رات جیسا شر کبھی نہیں دیکھا، تم پر افسوس! تمہیں کیا ہوا ہے، تم ہماری دعوت قبول نہیں کرتے ہو؟ پھر ابوبکر نے کہا: پہلی بات (قسم) تو شیطانی فعل ہے، اپنی ضیافت کی طرف بڑھو، کھانا لایا گیا، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کر دیا اور وہ بھی کھانے لگے، جب صبح ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! مہمانوں نے قسم کو پورا کیا اور میں نے قسم توڑ ڈالی اور آپ کو پورا واقعہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تو ان سے زیادہ وفادار اور اطاعت گزار ہے اور ان سے بہترین ہے۔“ عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، مجھے کفارہ کا علم نہیں ہو سکا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5366]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2057
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة