صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1392 ترقیم شاملہ: -- 3371
حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِي الْقُرَى، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي مُسْرِعٌ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِي، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ "، فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فقَالَ: " هَذِهِ طَابَةُ وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ".
حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: غزوہ تبوک کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ اور (آگے) حدیث بیان کی اس میں ہے پھر ہم (سفر سے واپس) آئے حتیٰ کہ ہم وادی میں پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی رفتار تیز کرنے والا ہوں، تم میں سے جو چاہے وہ میرے ساتھ تیزی سے آجائے اور جو چاہے وہ ٹھہر کر آجائے۔“ پھر ہم نکلے حتیٰ کہ جب بلندی سے ہماری نگاہ مدینہ پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طابہ (پاک کرنے والا شہر) ہے اور یہ احد ہے اور یہ پہاڑ (ایسا) ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 3371]
حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک کے سفر کا تذکرہ کرتے ہیں، اس میں ہے، واپسی پر جب ہم «وَادِي الْقُرَىٰ» پہنچے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 3371]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1392 ترقیم شاملہ: -- 5948
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْرُصُوهَا، فَخَرَصْنَاهَا، وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ: أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَانْطَلَقْنَا حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْكُمْ، فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ، فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ، فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ، وَجَاءَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَاءِ صَاحِبِ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا، كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا؟ فَقَالَتْ: عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي مُسْرِعٌ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ، فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ، دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ، فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلَنَا آخِرًا، فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلْتَنَا آخِرًا، فَقَالَ: أَوَ لَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ ".
سلیمان بن بلال نے عمرو بن یحییٰ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عباس بن سہل بن سعد ساعدی سے، انہوں نے حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تبوک کی جنگ (غزوہ تبوک) میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ وادی القریٰ (شام کے راستے میں مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے) میں ایک عورت کے باغ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اندازہ لگاؤ اس باغ میں کتنا میوہ ہے؟ ہم نے اندازہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے میں وہ دس وسق معلوم ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا کہ جب تک ہم لوٹ کر آئیں تم یہ (اندازہ) گنتی یاد رکھنا، اگر اللہ نے چاہا۔ پھر ہم لوگ آگے چلے، یہاں تک کہ تبوک میں پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات تیز آندھی چلے گی، لہذا کوئی شخص کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو، وہ اس کو مضبوطی سے باندھ لے۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ زوردار آندھی چلی۔ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس کو ہوا اڑا لے گئی، اور (وادی) طے کے دونوں پہاڑوں کے درمیان ڈال دیا۔ ابن العلماء حاکم ایلہ کا ایلچی ایک خط لے کر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سفید خچر تحفہ لایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب لکھا اور ایک چادر تحفہ بھیجی۔ پھر ہم لوٹے، یہاں تک کہ وادی القریٰ میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے باغ کے میوے کا حال پوچھا کہ کتنا نکلا؟ اس نے کہا پورا دس وسق نکلا۔ (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جلدی جاؤں گا، لہذا تم میں سے جس کا دل چاہے وہ میرے ساتھ جلدی چلے اور جس کا دل چاہے ٹھہر جائے۔ ہم نکلے یہاں تک کہ مدینہ دیکھائی دینے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ”طابہ“ ہے (طابہ مدینہ منورہ کا نام ہے) اور یہ احد پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم اس کو چاہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ انصار کے گھروں میں بنی نجار کے گھر بہترین ہیں (کیونکہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہوئے) پھر بنی عبدالاشہل کے گھر، پھر بنی حارث بن خزرج کے گھر۔ پھر بنی ساعدہ کے گھر اور انصار کے سب گھروں میں بہتری ہے۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہم سے ملے۔ حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے گھروں کی بہتری بیان فرمائی تو ہم کو سب کے اخیر میں کر دیا؟ یہ سن کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے انصار کی فضیلت بیان کی اور ہم کو سب سے آخر میں کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم کو یہ کافی نہیں ہے کہ تم خیر و برکت والوں میں سے ہو جاؤ؟“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5948]
حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو ہم وادی القریٰ میں ایک عورت کے باغیچے پر پہنچے، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باغ کے پھل کا اندازہ لگاؤ۔“ ہم نے اس کا اندازہ لگایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اندازہ دس وسق لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورت! اس کے پھل کو یاد رکھنا، حتیٰ کہ ان شاء اللہ ہم تیرے پاس لوٹ آئیں۔“ ہم چل پڑے حتیٰ کہ تبوک پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات سخت آندھی چلے گی، تم میں سے کوئی اس میں نہ اٹھے، اور جس کے پاس اونٹ ہے، وہ اس کا بندھن مضبوط کر کے باندھے۔“ تو سخت آندھی چلی، ایک آدمی کھڑا ہوا، آندھی نے اس کو اٹھا کر طی قبیلہ کے دو پہاڑوں میں پھینک دیا، اور ایلہ کے حاکم ابنِ علماء کا ایلچی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط لایا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں سفید خچر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف خط لکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر تحفے میں دی، پھر ہم واپس پلٹے، حتیٰ کہ ہم وادی القریٰ پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے اس کے باغ کے بارے میں پوچھا: ”اس کا پھل کتنا نکلا؟“ اس نے کہا: دس وسق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیز رفتاری اختیار کرنے لگا ہوں، تم میں سے جو چاہے وہ میرے ساتھ تیز تیز چلے اور جو چاہے ٹھہر جائے۔“ سو ہم چلے حتیٰ کہ مدینہ پر جا جھانکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (مدینہ) پاک سرزمین «طَابَةُ» ہے اور یہ احد ہے اور یہ ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھرانوں سے بہترین خاندان بنو نجار ہے، پھر بنو عبد الاشہل کا گھرانہ ہے، پھر بنو عبد الحارث بن خزرج کا خاندان ہے، پھر بنو ساعدہ کا خاندان ہے اور انصار کے تمام خاندانوں میں خیر و خوبی ہے۔“ پھر ہم سے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما ملے تو حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری خاندانوں میں امتیاز قائم کیا تو ہمیں آخر میں قرار دیا؟ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے اور پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے انصاری خاندانوں کی فضیلت و خوبی کا تذکرہ فرمایا تو ہمیں آخر میں ٹھہرایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ کافی نہیں ہے کہ تم بہترین لوگوں میں سے ہو؟“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5948]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1392 ترقیم شاملہ: -- 5949
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ قِصَّةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ، فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عفان اور مغیرہ بن سلمہ مخزومی دونوں نے کہا: ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عمرو بن یحییٰ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان تک:”اور انصار کے تمام گھروں میں خیر و برکت ہے۔“انہوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا قصہ، جو اس کے بعد ہے، ذکر نہیں کیا۔ اور وہیب کی حدیث میں مزید یہ بیان کیا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا سارا علاقہ (بطور حاکم) اس کو لکھ دیا، نیز وہیب کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف خط لکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5949]
یہی روایت امام صاحب کے دو اور اساتذہ نے بیان کی، لیکن اس میں صرف ”انصار کے ہر خاندان میں خیر ہے۔“ تک بیان کیا ہے اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان نہیں کیا اور وہیب کی حدیث میں، ان کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط لکھنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5949]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة