🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب إثبات حوض نبينا صلى الله عليه وسلم وصفاته:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2296 ترقیم شاملہ: -- 5976
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ يَوْمًا، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا ".
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور اہل احد پر اسی طرح نماز جنازہ پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے، پھر آپ پلٹ کر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا:میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تم پر گواہی دینے والا ہوں گا اور میں، اللہ کی قسم! جیسے اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں گا۔ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا (فرمایا:) زمین کی چابیاں عطا کی گئیں اور اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میرے بعد تم شرک کرو گے۔ لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم ان (خزانوں کے معاملے) میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرو گے (کہ ان میں سے کون زیادہ فائدہ اٹھاتا اور زیادہ دولت مندی کا مظاہرہ کرتا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5976]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن (گھر) سے نکلے اور شہدائے احد کے لیے، میت کی طرح دعا کی پھر منبر کی طرف پلٹے اور فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تمہارے بارے میں گواہی دوں گا اور میں اللہ کی قسم، اب اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں یا زمین کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور میں اللہ کی قسم! میں اپنے بعد تمہارے شرک کرنے کا خطرہ محسوس نہیں کرتا، لیکن مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5976]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2296 ترقیم شاملہ: -- 5977
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَي بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَرْضَهُ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى الْجُحْفَةِ، إِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا، وَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ "، قَالَ عُقْبَةُ: فَكَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ.
ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے شقیق بن سلمہ اسدی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ میں کچھ اقوام (لوگوں) کے بارے میں (فرشتوں سے) جھگڑوں گا، پھر ان کے حوالے سے (فرشتوں کو) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا: بلاشبہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں (بدعات) نکالی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5977]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے لیے دعا فرمائی، پھر منبر پر چڑھےگویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندوں اور مردوں کو رخصت فرما رہے ہیں اور فرمایا: میں حوض پہ تمھارا پیش رو ہوں گا اور اس چوڑائی اتنی ہے جتنا ایلہ اور جحفہ کا درمیانی فاصلہ ہے۔ میں تمہارے بارے میں یہ خوف و خطرہ محسوس نہیں کرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن میں تمھا رے بارے میں یہ خدشہ محسوس کرتا ہوں کہ تم دنیا میں دلچسپی لو گے اور تباہ و برباد ہو گے، جس طرح تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، یہ آخری بار تھی جس میں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومنبر پر دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5977]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں