صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب في سخائه صلى الله عليه وسلم
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2312 ترقیم شاملہ: -- 6020
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ".
موسیٰ بن انس نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لانے) پر جو بھی چیز طلب کی جاتی آپ وہ عطا فرماتے، کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں، وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا: میری قوم! مسلمان ہو جاؤ بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6020]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام لانے کے وقت جو کچھ مانگ لیا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عنایت فرما دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں دے دیں، تو وہ اپنی قوم کے پاس جا کر کہنے لگا: ”اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر عنایت فرماتے ہیں کہ انہیں فقر و فاقہ کا خدشہ ہی نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6020]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2312
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2312 ترقیم شاملہ: -- 6021
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ؟ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: " أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں مانگیں، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری قوم اسلام لے آؤ، کیونکہ اللہ کی قسم! بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک کوئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جاتا تھا، پھر جونہی وہ اسلام لاتا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6021]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان چرنے والی بکریاں مانگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ دے دیں، سو وہ اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا: اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر عطیہ دیتے ہیں کہ وہ فقر و فاقہ کا اندیشہ ہی نہیں رکھتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انسان محض دنیا کی خاطر مسلمان ہوتا، تو اسلام لانے کے بعد اسے اسلام، دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2312
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة