صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
42. باب مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2374 ترقیم شاملہ: -- 6155
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلَا أَدْرِي، أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ، فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوِ اكْتَفَى بِصَعْقَةِ الطُّورِ.
ابواحمد زبیری نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا۔ اس کے بعد زہری کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انہوں نے (یوں) کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”مجھے معلوم نہیں وہ (موسیٰ علیہ السلام) ان میں سے تھے جنہیں بے ہوشی تو ہوئی لیکن افاقہ مجھ سے پہلے ہو گیا یا کوہ طور کا صعقہ کافی سمجھا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6155]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا۔ اس کے بعد زہری کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انھوں نے (یوں) کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”مجھے معلوم نہیں وہ (موسیٰ علیہ السلام) ان میں سے تھے جنھیں بے ہوشی تو ہوئی لیکن افاقہ مجھ سے پہلے ہو گیا، یا کوہِ طور کا صعقہ کافی سمجھا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6155]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2374
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2374 ترقیم شاملہ: -- 6156
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ "، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي، حَدَّثَنِي أَبِي.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی، ابن نمیر نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علیہم السلام کے درمیان کسی کو دوسرے پر بہتر قرار نہ دو۔“ اور ابن نمیر کی حدیث (کی سند) میں ہے: عمرو بن یحییٰ نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6156]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علیہم السلام کے درمیان فضیلت قائم نہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6156]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2374
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة