صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب فضائل فاطمة بنت النبي عليها الصلاة والسلام:
باب: سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2450 ترقیم شاملہ: -- 6312
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ، فَسَارَّهَا، فَبَكَتْ، ثُمَّ سَارَّهَا، فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ : مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَبَكَيْتِ، ثُمَّ سَارَّكِ، فَضَحِكْتِ، قَالَتْ: سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ، فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي، فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ ".
عروہ بن زبیر نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کو راز داری سے (سرگوشی کرتے ہوئے) کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ رو پڑیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کو راز داری سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: یہ کیا بات تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو راز داری سے کہی اور آپ رو پڑیں، پھر دوبارہ راز داری سے بات کی تو ہنس دیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں بات کی اور اپنی موت کی خبر دی تو میں رو پڑی، پھر دوسری بار میرے کان میں بات کی اور مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سے پہلی میں ہوں گی جو ان سے جا ملیں گی تو میں ہنس دی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6312]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کو رازداری سے (سرگوشی کرتے ہوئے) کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رو پڑیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کو رازداری سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: یہ کیا بات تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو رازداری سے کہی اور آپ رو پڑیں، پھر دوبارہ رازداری سے بات کی تو ہنس دیں؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں بات کی اور ”اپنی موت کی خبر دی“ تو میں رو پڑی، پھر دوسری بار میرے کان میں بات کی اور مجھے بتایا کہ ”ان کے گھر والوں میں سے پہلی میں ہوں گی جو ان سے جا ملوں گی“ تو میں ہنس دی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6312]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2450
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2450 ترقیم شاملہ: -- 6313
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ، لَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ سَارَّهَا، فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا، فَلَمَّا رَأَى جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِكَتْ، فَقُلْتُ لَهَا: خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلْتُهَا: مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ أُفْشِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَا حَدَّثْتِنِي، مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى فَأَخْبَرَنِي، أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ، وَإِنَّهُ عَارَضَهُ الْآنَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنِّي لَا أُرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، فَإِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ، قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ، فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ: أَمَا تَرْضَيْ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، قَالَتْ: فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَأَيْتِ ".
ابوعوانہ نے فراس سے، انہوں نے عامر سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج آپ کے پاس موجود تھیں، ان میں سے کوئی (وہاں سے) غیر حاضر نہیں ہوئی تھی، اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے ذرہ برابر مختلف نہ تھی۔ جب آپ نے انہیں دیکھا تو ان کو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”میری بیٹی کو خوش آمدید!“ پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھایا، پھر راز داری سے ان کے ساتھ بات کی تو وہ شدت سے رونے لگیں۔ جب آپ نے ان کی شدید بے قراری دیکھی تو آپ نے دوبارہ ان کے کان میں کوئی بات کہی تو ہنس پڑیں۔ (بعد میں) میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ سے راز داری کی بات کی، آپ روئیں (کیوں؟) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس جگہ سے) تشریف لے گئے تو میں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: میں ایسی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کر دوں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں نے ان سے کہا: میرا آپ پر جو حق ہے میں اس کی بنا پر اصرار کرتی ہوں (اور یہ اصرار جاری رہے گا) الا یہ کہ آپ مجھے بتائیں کہ آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا: اب (اگر آپ پوچھتی ہیں) تو ہاں، پہلی بار جب آپ نے سرگوشی کی تو مجھے بتایا: ”جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ سال میں ایک یا دو مرتبہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے اور ابھی انہوں نے ایک ساتھ دو بار دور کیا ہے اور مجھے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ اجل (مقررہ وقت) قریب آ گیا ہے، اس لیے تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے صبر کرنا، میں تمہارے لیے بہترین پیش رو ہوں گا۔“ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اس پر میں اس طرح روئی جیسا آپ نے دیکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شدید بے قراری دیکھی تو دوسری بار میرے کان میں بات کی اور فرمایا: ”فاطمہ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم ایماندار عورتوں کی سردار بنو یا (فرمایا:) اس امت کی عورتوں کی سردار بنو؟“ کہا: تو اس پر میں اس طرح سے ہنس پڑی جیسے آپ نے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6313]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، ان میں سے کوئی پیچھے نہیں رہ گئی تھی، تو اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے ذرہ برابر مختلف نہ تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”میری بیٹی کو خوش آمدید!“ پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھایا، پھر راز داری سے ان کے ساتھ بات کی تو وہ شدت سے رونے لگیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شدید بے قراری دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان کے کان میں کوئی بات کہی تو وہ ہنس پڑیں۔ (بعد میں) میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ سے راز داری کی بات کی، آپ روئیں (کیوں؟) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس جگہ سے) تشریف لے گئے تو میں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: میں ایسی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کردوں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں نے ان سے کہا: میرا آپ پر جو حق ہے میں اس کی بنا پر اصرار کرتی ہوں (اور یہ اصرار جاری رہے گا) الا یہ کہ آپ مجھے بتائیں کہ آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا: اب (اگر آپ پوچھتی ہیں) تو ہاں، پہلی بار جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی کی تو مجھے بتایا: ”جبریل علیہ السلام میرے ساتھ سال میں ایک یا دو مرتبہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے اور ابھی انہوں نے ایک ساتھ دوبارہ دور کیا ہے اور مجھے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ اجل (مقررہ وقت) قریب آگیا ہے، اس لیے تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے صبر کرنا، میں تمہارے لیے بہترین پیش رو ہوں گا۔“ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اس پر میں اس طرح روئی جیسا آپ نے دیکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شدید بے قراری دیکھی تو دوسری بار میرے کان میں بات کی اور فرمایا: ”فاطمہ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم ایماندار عورتوں کی سردار بنو یا (فرمایا:) اس امت کی عورتوں کی سردار بنو؟“ کہا: تو اس پر میں اس طرح سے ہنس پڑی جیسے آپ نے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6313]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2450
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2450 ترقیم شاملہ: -- 6314
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " اجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةً، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا، فَبَكَتْ فَاطِمَةُ، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ أَيْضًا، فَقُلْتُ لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ، فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَكَتْ: أَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ دُونَنَا ثُمَّ تَبْكِينَ، وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ، فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَانَ حَدَّثَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ فِي الْعَامِ مَرَّتَيْنِ، وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي، وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي، وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ، فَبَكَيْتُ لِذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي، فَقَالَ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ ".
زکریا نے فراس سے، انہوں نے عامر سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں)، کوئی بیوی ایسی نہ تھی جو پاس نہ ہو کہ اتنے میں سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بالکل اسی طرح چلتی تھیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو مرحبا کہا اور فرمایا: ”مرحبا میری بیٹی۔“ پھر ان کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا اور ان کے کان میں آہستہ سے کچھ فرمایا تو وہ بہت روئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ حال دیکھا تو دوبارہ ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنسیں۔ میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص تم سے راز کی باتیں کیں، پھر تم روتی ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان کو قسم دی اس حق کی جو میرا ان پر تھا اور کہا کہ مجھ سے بیان کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا، تو انہوں نے کہا کہ اب البتہ میں بیان کروں گی۔ پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں یہ فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال ایک بار یا دو بار مجھ سے قرآن کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دو بار دور کیا، اور میں خیال کرتا ہوں کہ میرا (دنیا سے جانے کا) وقت قریب آ گیا ہے، پس اللہ سے ڈرتی رہ اور صبر کر، میں تیرا بہت اچھا منتظر ہوں۔“ یہ سن کر میں رونے لگی جیسے تم نے دیکھا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا رونا دیکھا تو دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: ”اے فاطمہ! تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو؟“ یہ سن کر میں ہنسی جیسے کہ تم نے دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6314]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں)، کوئی بیوی ایسی نہ تھیں جو پاس نہ ہو کہ اتنے میں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بالکل اسی طرح چلتی تھیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو «مَرْحَبًا» کہا اور فرمایا: ”مرحبا میری بیٹی!“ پھر ان کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا اور ان کے کان میں آہستہ سے کچھ فرمایا تو وہ بہت روئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ حال دیکھا تو دوبارہ ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنسیں۔ میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص تم سے راز کی باتیں کیں، پھر تم روتی ہو؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان کو قسم دی اس حق کی جو میرا ان پر تھا اور کہا کہ مجھ سے بیان کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا، تو انہوں نے کہا کہ اب البتہ میں بیان کروں گی۔ پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں یہ فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال ایک بار یا دو بار مجھ سے قرآن کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دو بار دور کیا، اور میں خیال کرتا ہوں کہ میرا (دنیا سے جانے کا) وقت قریب آ گیا ہے، پس اللہ سے ڈرتی رہ اور صبر کر، میں تیرا بہت اچھا منتظر ہوں۔“ یہ سن کر میں رونے لگی جیسے تم نے دیکھا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا رونا دیکھا تو دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: ”اے فاطمہ! کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو؟“ یہ سن کر میں ہنسی جیسے کہ تم نے دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6314]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2450
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة