صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
23. باب فضل الرفق:
باب: نرمی کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2594 ترقیم شاملہ: -- 6602
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ ".
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے مقدام بن شریح بن بانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو زینت بخش دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6602]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نرمی اور ملائمت جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اس کو مزین (خوبصورت) بنا دیتی ہے اور جس چیز سے سلب کر لی جاتی ہے، اس کو عیب دار، بدصورت بنا دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6602]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2594 ترقیم شاملہ: -- 6603
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا، فَكَانَتْ فِيهِ صُعُوبَةٌ فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے مقدام بن شریح بن بانی کو اسی سند سے (حدیث بیان کرتے ہوئے) سنا اور انہوں نے حدیث میں مزید بیان کیا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوئیں جس میں ابھی سرکشی تھی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے گھمانے لگیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! نرمی سے کام لو۔“ اس کے بعد اسی (سابقہ حدیث) کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6603]
امام صاحب یہی حدیث اپنے دو اساتذہ سے اس اضافے کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک اونٹ پر سوار ہوئیں، وہ کچھ اناڑی اور سرکش تھا تو وہ اس کو چکر دینے لگیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”نرمی کو اختیار کرو۔“ آگے مذکورہ روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6603]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة