صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب كيفية الخلق الآدمي في بطن امه وكتابة رزقه واجله وعمله وشقاوته وسعادته:
باب: انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق، عمر، عمل، شقاوت و سعادت لکھے جانے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 112 ترقیم شاملہ: -- 306
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، حَيٌّ مِنَ الْعَرَبِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا، فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَسْكَرِهِ، وَمَالَ الآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ، وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً، إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ، فَقَالُوا: مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ، كَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا صَاحِبُهُ أَبَدًا، قَالَ: فَخَرَجَ مَعَهُ، كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ، قَالَ: فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالأَرْضِ، وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَي سَيْفِهِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: الرَّجُلُ الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنَ أَهْلِ النَّار، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: أَنَا لَكُمْ بِهِ، فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ، حَتَّى جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالأَرْضِ، وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لِيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ".
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کا آمنا سامنا ہوا اور جنگ شروع ہو گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لشکر گاہ کی طرف پلٹے اور فریق ثانی اپنی لشکر گاہ کی طرف مڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والوں میں سے ایک آدمی تھا جو دشمنوں (کی صفوں) سے الگ رہ جانے والوں کو نہ چھوڑتا، ان کا تعاقب کرتا اور انہیں اپنی تلوار کا نشانہ بنا دیتا، لوگوں نے کہا: آج ہم میں سے فلاں نے جو کردکھایا کسی اور نے نہیں کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ شخص اہل جہنم میں سے ہے۔“ لوگوں میں سے ایک آدمی کہنے لگا: میں مستقل طور پر اس کے ساتھ رہوں گا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ آدمی اس کے ہمراہ نکلا۔ جہاں وہ ٹھہرتا وہیں یہ ٹھہر جاتا اور جب وہ اپنی رفتار تیز کرتا تو اس کے ساتھ یہ بھی تیز چل پڑتا۔ (آخر کار) وہ آدمی شدید زخمی ہو گیا، اس نے جلد مر جانا چاہا تو اس نے اپنی تلوار کا اوپر کا حصہ (تلوار کا دستہ) زمین پر رکھا اور اس کی دھار اپنی چھاتی کے درمیان رکھی، پھر اپنی تلوار سے اپنا پورا وزن ڈال کر خودکشی کر لی۔ وہ (پیچھا کرنے والا) آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ تو اس نے کہا: وہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے ابھی بتایا تھا کہ وہ دوزخی ہے اور لوگوں نے اسے غیر معمولی بات سمجھا تھا۔ اس پر میں نے (لوگوں سے) کہا: میں تمہارے لیے اس کا پتہ لگاؤں گا۔ میں اس کے پیچھے نکلا یہاں تک کہ وہ شدید زخمی ہو گیا اور اس نے جلدی مر جانا چاہا تو اس نے اپنی تلوار کا اوپر کا حصہ (دستہ) زمین پر اور اس کی دھار چھاتی کے درمیان رکھی، پھر اس پر اپنا پورا بوجھ ڈال دیا اور خود کو مار ڈالا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو نظر آتا ہے کہ کوئی آدمی جنتیوں کے سے کام کرتا ہے، حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے اور لوگوں کو نظر آتا ہے کہ کوئی آدمی دوزخیوں کے سے کام کرتا ہے حالانکہ (انجام کار) وہ جنتی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 306]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کا آمنا سامنا ہوا اور جنگ شروع ہو گئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کی طرف پلٹے اور فریقِ ثانی اپنے لشکر کی طرف جھکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں ایک آدمی تھا جو دشمن سے الگ ہونے والے کا تعاقب کرتا اور اپنی تلوار سے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیتا، لوگوں نے کہا، آج جس قدر اس نے کام کیا ہے (مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا) اس قدر کسی نے نفع نہیں پہنچایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے باوجود یہ دوزخی ہے۔“ تو لوگوں میں سے ایک آدمی کہنے لگا: میں ہر وقت اس کے ساتھ رہوں گا۔ تو وہ اس کے ہمراہ نکلا، جہاں وہ ٹھہرتا وہیں وہ ٹھہر جاتا اور جب وہ تیز رفتاری اختیار کرتا تو وہ بھی تیز چل پڑتا۔ وہ آدمی شدید زخمی ہو گیا اس نے جلد موت چاہی اور اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھا اور اس کی دھار اپنی چھاتی پر پھر اپنی تلوار پر پورا وزن ڈال کر خود کشی کر لی، تو دوسرا آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہوں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا سبب ہے؟“ تو اس نے کہا: وہ آدمی جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی بتایا تھا: کہ وہ دوزخی ہے اور لوگوں پر یہ بات گراں گزری تھی تو میں نے لوگوں کو کہا تھا میں اس کے انجام کو جاننے کا ذمہ لیتا ہوں۔ میں اس کی تلاش میں نکلا یہاں تک کہ وہ شدید زخمی ہو گیا، تو اس نے جلد موت چاہی، اس کے لیے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھا اور اس کی دھار اپنے دونوں پستانوں کے درمیان رکھی پھر اس نے بوجھ ڈال دیا اور خود کشی کر لی۔ تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جنتیوں والے کام کرتا رہتا ہے جیسا کہ لوگوں کو نظر آتا ہے یعنی ظاہری اعتبار سے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے، اور ایک دوسرا آدمی لوگوں کو نظر آنے کے اعتبار سے دوزخیوں والے کام کرتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 306]
ترقیم فوادعبدالباقی: 112
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في (صحيحه)) في المغازی، باب: غزوة برقم (3966) وفي الجهاد، باب: لا يقول فلان شهيد برقم (2742) والمولف ((مسلم)) في القدر، باب: كيفية الخلق الآدمي في بطن امه، وكتابة رزقه واجله وعمله، وشقاوته وسعادته مختصراً برقم (6683) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (4780 و 4287)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 112 ترقیم شاملہ: -- 6741
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ".
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص، جس طرح وہ لوگوں کو نظر آ رہا ہوتا ہے، اہل جنت کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے، لیکن (آخر کار) وہ اہل جہنم میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی، جس طرح سے وہ لوگوں کو نظر آ رہا ہوتا ہے اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے لیکن (انجام کار) وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6741]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ایک انسان اہل جنت والے عمل کرتا رہتا ہے، لوگوں کے سامنے کے حالات کے اعتبار سے، حالانکہ وہ اہل نار سے ہوتا ہے اور ایک انسان لوگوں کے سامنے کے حالات کے اعتبار سے دوزخیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6741]
ترقیم فوادعبدالباقی: 112
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة