صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب كراهة تمني الموت لضر نزل به:
باب: موت کی آرزو کرنا منع ہے کسی تکلیف آنے پر۔
ترقیم عبدالباقی: 2680 ترقیم شاملہ: -- 6814
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي "،
عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کسی نقصان (مصیبت) کی وجہ سے، جو اس پر نازل ہو، موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر اس نے لامحالہ موت مانگنی بھی ہو تو یوں کہے: اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو اور مجھے وفات دے جب موت میرے لیے بہتر ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6814]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تم میں سے کوئی پیش آمدہ تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا ہر گز نہ کرے، سوا اگر وہ کوئی ایسی دعا کے لیے مضطرہو، اس کے بغیر چارہ نہ پائے تو یوں کہے، اے اللہ! جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے۔ مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیے موت بہتر ہو تو دنیا سے مجھے اٹھالے۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6814]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2680
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2680 ترقیم شاملہ: -- 6815
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے کہا: ”کسی نقصان کی وجہ سے جو اسے پہنچے۔“ (نازل ہو نہیں کہا۔) [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6815]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہ روایت بیان کرتے ہیں اس میں یہ ہے اس تکلیف کے سبب جو اسے پہنچی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6815]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2680
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2680 ترقیم شاملہ: -- 6816
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، وَأَنَسٌ يومئذ حي، قَالَ أَنَسٌ : لَوْلَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ ".
عاصم نے ہمیں نضر بن انس سے حدیث بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ان دنوں زندہ تھے۔ (نضر نے) کہا: انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ ہوتا: ”تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے“ تو میں موت کی تمنا کرتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6816]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان نہ ہوتا۔ تم میں سے کوئی موت کی آرزو ہر گز نہ کرے،تو میں موت کی تمنا کر لیتا۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6816]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2680
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة