صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب فضل الذكر والدعاء والتقرب إلى الله تعالى:
باب: اللہ تعالیٰ کی یاد اور قرب کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2687 ترقیم شاملہ: -- 6833
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ، فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً "، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ،
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جو شخص ایک نیکی لے کر آتا ہے، اسے اس جیسی دس ملتی ہیں اور میں بڑھا (بھی) دیتا ہوں اور جو شخص برائی لے کر آتا ہے تو اس کا بدلہ اس جیسی ایک برائی ہے یا (چاہوں تو) معاف کر دیتا ہوں، جو ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤ جتنا اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے، میں اس کے پاس دوڑتا ہوا جاتا ہوں اور جو مجھ سے پوری زمین کی وسعت بھر گناہوں کے ساتھ ملاقات کرتا ہے (اور) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا، میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ اس سے ملاقات کرتا ہوں۔“ (امام مسلم کے شاگرد) ابراہیم نے کہا: ہم سے حسب بن بشر نے، ان کو وکیع نے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6833]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عز وجل فرماتے ہیں، جو شخص ایک نیکی لے کر آتا ہے تو اس کے لیے اس کے دس گنا برابر ثواب ہے اور میں اضافہ کرتا ہوں اور جو ایک بدی لے کر آتا ہے، سو اس کے لیے اس کے برابر برائی ہے، یا میں بخش دیتا ہوں اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے میں اس کے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے، میں اس کے چار ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے، میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں اور جو مجھے زمین کی پورائی (بھرنے) کے برابر غلطیوں کے ساتھ ملتا ہے، بشرطیکہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، میں اسے اتنی ہی مغفرت کے ساتھ ملتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6833]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2687
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2687 ترقیم شاملہ: -- 6834
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ.
ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی، مگر انہوں نے کہا: ”اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ملتی ہیں، یا میں (اس سے بھی) زیادہ دیتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6834]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6834]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2687
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة