🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب فضل التهليل والتسبيح والدعاء:
باب: لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ اور دعا کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2693 ترقیم شاملہ: -- 6844
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مِرَارٍ، كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَةَ أَنْفُسٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ "،
ابواسحاق نے عمرو بن میمون سے روایت کی، کہا: جس شخص نے دس بار: «لا الٰہ الا اللہ وحده لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علیٰ کل شیء قدیر» پڑھا وہ اس شخص کی طرح ہو گا جس نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے چار غلام آزاد کیے ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6844]
حضرت عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: جو انسان «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» دس دفعہ کہتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضرت اسماعیل کی اولاد سے چار غلام آزاد کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6844]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2693
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2693 ترقیم شاملہ: -- 6845
وقَالَ سُلَيْمَانُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، فَقُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتُهُ، قَالَ: مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَقُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتُهُ؟ قَالَ: مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
شعبی نے ربیع بن خثیم سے اسی کے مانند روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ربیع سے پوچھا: آپ نے یہ (حدیث) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون سے، پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا، ان سے پوچھا: آپ نے یہ (حدیث) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: ابن ابی لیلیٰ سے، کہا: تو میں ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا: آپ نے یہ (حدیث) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنی، وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6845]
امام مسلم رحمہ اللہ نے اس سند کے ذریعے وضاحت کر دی ہے کہ ربیع بن خیثم نے یہ روایت عمرو بن میمون سے اور عمرو بن میمون نے ابن ابی لیلیٰ سے اور ابن ابی لیلیٰ نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6845]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2693
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں