صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب التسبيح اول النهار وعند النوم:
باب: سوتے وقت اور دن کے آغاز میں تسبیح کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2727 ترقیم شاملہ: -- 6915
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى فِي يَدِهَا، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى مَكَانِكُمَا، فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَهْوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ "،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے سے جو زحمت برداشت کرنی پڑی اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں تکلیف ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے۔ آپ کی طرف گئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (گھر میں) نہ پایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملیں اور انہیں (اپنی تکلیف کے بارے میں) بتایا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو ان (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا) کے اپنے پاس آنے کے بارے میں بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔۔ اس وقت ہم اپنے اپنے بستروں میں جا چکے تھے، ہم کھڑے ہونے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں اپنی اپنی جگہ پر رہو۔“ آپ ہم دونوں کے درمیان (والی جگہ پر) بیٹھ گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے قدم مبارک کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں نے جو مجھ سے مانگا ہے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ سکھاؤں؟ جب تم دونوں اپنے اپنے بستروں میں جاؤ تو چونتیس بار «اللہ اکبر» کہو، تینتیس بار «سبحان اللہ» کہو اور تینتیس بار «الحمد للہ» کہو، یہ (عمل) تم دونوں کے لیے ایک خادم (مل جانے) سے بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6915]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے سے جو ہاتھوں کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی تھی (ہاتھوں میں جو نشان پڑ گئے) اس کی شکایت کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تھے، چنانچہ وہ گئیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل نہ سکیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مل کر انہیں اپنی آمد کا مقصد بتایا، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آمد کا تذکرہ کیا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، جبکہ وہ اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔ چنانچہ وہ اٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ پر رہو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے حتی کہ میں نے اپنے سینے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم دونوں نے درخواست کی ہے، کیا میں تم کو اس سے بہتر چیز نہ سکھاؤں؟ جب تم اپنے بستروں پر جاؤ تو چونتیس (34) دفعہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو، تینتیس (33) دفعہ اس کی تسبیح «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ بیان کرو اور تینتیس (33) بار اس کی حمد «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ بیان کرو۔ سو یہ عمل تمہارے لیے خادم لینے سے بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6915]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2727
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2727 ترقیم شاملہ: -- 6916
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ،
وکیع، معاذ اور ابن ابی عدی سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور معاذ کی حدیث میں ہے: ”جب تم دونوں رات کے وقت اپنے بستر میں چلے جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6916]
یہی روایت امام صاحب تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور معاذ کی روایت میں «مَضَاجِعَكُمَا» کی جگہ «مَضْجَعِكَ مِنَ اللَّيْلِ» ”جب رات کو اپنے بستر پر جاؤ“ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6916]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2727
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2727 ترقیم شاملہ: -- 6917
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ عَلِيٌّ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، وَفِي حَدِيثِ عَطَاءٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.
عبیداللہ بن ابی یزید اور عطاء بن ابی رباح نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ انہوں نے حدیث میں مزید یہ بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی میں نے کبھی اسے ترک نہیں کیا۔ ان سے پوچھا: کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا؟ انہوں نے جواب دیا: جنگ صفین کی رات بھی (اسے نہیں چھوڑا۔) عطاء نے جو حدیث مجاہد سے اور انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی، انہوں (ابن ابی لیلیٰ) نے کہا: میں نے ان (حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے عرض کی: صفین کی رات بھی نہ چھوڑا؟ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6917]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2727
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة