🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب الخسف بالجيش الذي يؤم البيت:
باب: بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر دھنسائے جانے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2883 ترقیم شاملہ: -- 7242
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوْسَطِهِمْ، وَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ ثُمَّ يُخْسَفُ بِهِمْ، فَلَا يَبْقَى إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
امیہ بن صفوان سے روایت ہے، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن صفوان کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایک لشکر (اللہ کے) اس گھر کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اس کا رخ کرے گا یہاں تک کہ جب وہ زمین کے چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کے درمیان والے حصے کو (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا، ان میں سے ایک علیحدہ رہ جانے والے شخص کے سوا، جو ان کے بارے میں خبر دے گا اور کوئی (زندہ) باقی نہیں بچے گا۔ تو ایک شخص نے (ان کی بات سن کر) کہا: میں تمھارے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7242]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیت اللہ پر حملہ کے ارادے سے ایک لشکر اس کا رخ کرے گا، جب یہ لوگ چٹیل زمین میں پہنچیں گے ان کے درمیانی حصہ کو دھنسا دیا جائے گا اور پہلا حصہ آخری حصے کو آواز دے گا، پھر ان سب کو بھی دھنسا دیا جائے گا، بس وہ بھگوڑا بچے گا جو ان کے بارے میں جا کر اطلاع دے گا۔ چنانچہ ایک آدمی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا اور میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں گواہی دیتا ہوں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7242]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2883
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2883 ترقیم شاملہ: -- 7243
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنَعَةٌ، وَلَا عَدَدٌ وَلَا عُدَّةٌ، يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ "، قَالَ يُوسُفُ: وَأَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُونَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ، قَالَ زَيْدٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْجَيْشَ الَّذِي ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ.
عبیداللہ بن عمرو نے کہا: ہمیں زید بن ابی انیسہ نے عبدالملک عامری سے خبر دی، انہوں نے یوسف بن مالک سے روایت کی، کہا: مجھے عبداللہ بن صفوان نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک قوم اس گھر۔۔۔یعنی کعبہ۔۔۔میں پناہ لے گی، ان کے پاس نہ اپنا دفاع کرنے کے لیے کوئی ذریعہ ہوگا، نہ عددی قوت ہوگی اور نہ سامان جنگ ہی ہوگا، ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ (لشکر کے) لوگ زمین کے ایک چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کو (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا۔ یوسف (بن مالک) نے کہا: ان دونوں اہل شام مکہ کی طرف بڑھے آ رہے تھے، تو عبداللہ بن صفوان نے کہا: دیکھو، اللہ کی قسم! یہ وہ لشکر نہیں ہے۔ زید (بن ابی انیسہ) نے کہا: اور مجھے عبدالملک عامری نے عبدالرحمان بن سابط سے، انہوں نے حارث بن ابی ربیعہ سے، انہوں نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے، یوسف بن مالک کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے اس میں اس لشکر کی بات نہیں کی جس کا عبداللہ بن صفوان نے ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7243]
حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کی پناہ ایسے لوگ لیں گے، ان کا کوئی حامی و محافظ نہیں ہو گا، نہ عددی طاقت اور نہ ساز و سامان، ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا، حتیٰ کہ جب لشکر زمین کے ایک چٹیل میدان میں پہنچے گا تو اسے دھنسا دیا جائے گا۔ عبداللہ بن صفوان کے شاگرد یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں، ان دنوں اہل شام یعنی یزید کا لشکر مکہ کی طرف جا رہا تھا، چنانچہ عبداللہ نے کہا (حالانکہ وہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ شہید ہوئے): ہاں اللہ کی قسم! یہ وہ لشکر نہیں ہے۔ زید بن ابی انیسہ کہتے ہیں، مجھے یہی روایت ایک دوسری سند سے حضرت اُم المؤمنین رضی اللہ عنہا سے پہنچی ہے لیکن اس میں اس لشکر کا ذکر نہیں ہے، جس کا ذکر عبداللہ بن صفوان نے کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7243]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2883
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں