🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب ذكر ابن صياد:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2927 ترقیم شاملہ: -- 7348
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ لِي: " أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ؟ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَدْ وُلِدَ لِي، أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ، وَلَا مَكَّةَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ، وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ، وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ، قَالَ: فَلَبَسَنِي ".
داود نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مکہ کی طرف جاتے ہوئے (راستے میں) میرا اور ابن صیاد کا ساتھ ہو گیا۔ اس نے مجھ سے کہا: میں کچھ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا: اس کے بچے نہیں ہوں گے؟ کہا: میں نے کہا: کیوں نہیں! (سنا تھا۔) اس نے کہا: میرے بچے ہوئے ہیں۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے نہیں سنا تھا: وہ (دجال) مدینہ میں داخل ہو گا اور نہ مکہ میں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! اس نے کہا: میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا اور اب مکہ کی طرف جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: پھر اپنی بات کے آخر میں اس نے مجھ سے کہا: دیکھیں! اللہ کی قسم! میں اس (دجال) کی جائے پیدائش، اس کے رہنے کی جگہ اور وہ کہاں ہے سب جانتا ہوں۔ (اس طرح) اس نے (اپنی حیثیت کے بارے میں) مجھے الجھا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7348]
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ جاتے ابن صیاد کا ساتھی بنا تو اس نے مجھے کہا، ہاں مجھے لوگوں سے تکلیف پہنچی ہے، وہ خیال کرتے ہیں، میں دجال ہوں، کیا تونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا۔" کہ اس کی اولاد نہیں ہو گی۔"میں نے کہا، کیوں نہیں(میں نے سنا ہے)اس نے کہا تو میری تو اولاد ہے، کیا تونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا۔"وہ مدینہ میں داخل ہو گا نہ مکہ میں۔"میں نے کہا، ضرور سنا ہے، اس نے کہا میں مدینہ میں پیدا ہوا ہوں، اور اب میں مکہ جانا چاہتا ہوں، پھر اس نے اپنی باتوں کے آخر میں مجھے کہا،ہاں، اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں، اس کا مولد (جائے پیدائش) کہاں ہے اور اب وہ کہاں ہے، اس طرح اس نے مجھے شک و شبہ میں ڈال دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7348]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2927 ترقیم شاملہ: -- 7349
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ صَائِدٍ " وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ مَا لِي، وَلَكُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ، وَقَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: وَلَا يُولَدُ لَهُ، وَقَدْ وُلِدَ لِي، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَكَّةَ، وَقَدْ حَجَجْتُ، قَالَ: فَمَا زَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَأْخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْآنَ حَيْثُ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، قَالَ: وَقِيلَ لَهُ: أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ؟، قَالَ: فَقَالَ: لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا كَرِهْتُ ".
معتمر کے والد (سلیمان) ابونضرہ سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں، کہا: مجھ سے ابن صیاد نے ایک بات کہی تو مجھے اس کے سامنے شرمندگی محسوس ہوئی۔ (اس نے کہا:) اس بات پر میں اور لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں، مگر اے اصحاب محمد! آپ لوگوں کا میرے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ کیا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: دجال یہودی ہو گا۔ اور میں مسلمان ہو چکا ہوں۔ کہا: وہ لاولد ہو گا۔ جبکہ میری اولاد ہوئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ نے مکہ (میں داخلہ) اس پر حرام کر دیا ہے۔ اور میں حج کر چکا ہوں۔ (حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے) کہا: وہ (ابن صیاد) مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا جن سے امکان تھا کہ اس کی بات میرے دل میں بیٹھ جاتی، کہا: پھر وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! اس وقت میں یہ بات جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے، میں اس کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں۔ کہا: اس سے پوچھا گیا کہ کیا تمھیں یہ بات اچھی لگے گی کہ تم وہی (دجال) آدمی ہو؟ اس نے کہا: اگر مجھ کو اس کی پیش کش کی جائے تو میں اسے ناپسند نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7349]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ابن صیاد نے مجھے ایک بات کہی اس سے مجھے شرم و حیاء آگئی اس مسئلہ میں میں لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں لیکن اے محمد کے ساتھیو! تم میرے بارے میں ایسی باتیں کیوں کرتے ہو۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے۔"وہ یہودی ہے۔"اور میں تو اسلام کا اظہار کر چکا ہوں، آپ نے فرمایا:"اور اس کی اولاد نہیں ہوگی۔"اور میری اولاد ہے اور آپ نے فرمایا:" اللہ نے اس پر مکہ کا داخلہ حرام قراردیا ہے۔"اور میں حج کر چکا ہوں، وہ اس قسم کی باتیں کرتا رہا حتی کہ قریب تھا کہ مجھ پر اس کی باتیں اثر انداز ہو جائیں (میں اس سے متاثر ہو جاؤں) چنانچہ اس نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا،اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں، اب وہ کہاں ہے اور میں اس کے باپ اور اس کی ماں کو بھی جانتا ہوں اور اسے پوچھا گیا، کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تم ہی وہ آدمی (دجال)ہو؟ تواس نے کہا، اگر مجھے اس کی پیش کش کی جائے۔میں ناپسند نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7349]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2927 ترقیم شاملہ: -- 7350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا، وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ، فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ، قَالَ: وَجَاءَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي، فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ، فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِعُسٍّ، فَقَالَ: اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ وَاللَّبَنُ حَارٌّ، مَا بِي إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ، أَوَ قَالَ: آخُذَ عَنْ يَدِهِ، فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا، فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ، ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِي النَّاسُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ كَافِرٌ، وَأَنَا مُسْلِمٌ، أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ، وَقَدْ تَرَكْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ، وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ وَأَيْنَ هُوَ الْآنَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ ".
جریری نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم حج یا عمرہ کو نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صیاد بھی تھا۔ ایک منزل میں ہم اترے، لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور میں اور ابن صیاد دونوں رہ گئے۔ مجھے اس وجہ سے اس سے سخت وحشت ہوئی کہ لوگ اس کے بارے میں جو کہا کرتے تھے (کہ دجال ہے)۔ ابن صیاد اپنا اسباب لے کر آیا اور میرے اسباب کے ساتھ رکھ دیا (مجھے اور زیادہ وحشت ہوئی)۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اگر تو اپنا اسباب اس درخت کے نیچے رکھے تو بہتر ہے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر ہمیں بکریاں دکھلائی دیں۔ ابن صیاد گیا اور دودھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ابوسعید! دودھ پی۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اور دودھ گرم ہے اور دودھ نہ پینے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہ تھی کہ مجھے اس کے ہاتھ سے پینا برا معلوم ہوا۔ ابن صیاد نے کہا کہ اے ابوسعید! میں نے قصد کیا ہے کہ ایک رسی لوں اور درخت میں لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دے لوں ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے حق میں کہتے ہیں۔ اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اتنی کس سے پوشیدہ ہے جتنی تم انصار کے لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ کیا تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں جانتے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ دجال کافر ہو گا اور میں تو مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال لاولد ہو گا اور میری اولاد مدینہ میں موجود ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال مدینہ میں اور مکہ میں نہ جائے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کو جا رہا ہوں؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (اس کی ایسی باتوں کی وجہ سے) قریب تھا کہ میں اس کا طرفدار بن جاؤں (اور لوگوں کا اس کے بارے میں کہنا غلط سمجھوں) کہ پھر کہنے لگا: البتہ اللہ کی قسم! میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدائش کا مقام جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کہاں ہے۔ کہا: میں نے اس سے کہا: باقی سارا دن تیرے لیے تباہی اور ہلاکت ہو! (تیرا اس سے اتنا قرب کیسے ہوا؟) [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7350]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ ہم حج یا عمرہ کو نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صائد بھی تھا۔ ایک منزل میں ہم اترے، لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور میں اور ابن صائد دونوں رہ گئے۔ مجھے اس وجہ سے اس سے سخت وحشت ہوئی کہ لوگ اس کے بارے میں جو کہا کرتے تھے (کہ دجال ہے) ابن صائد اپنا اسباب لے کر آیا اور میرے اسباب کے ساتھ رکھ دیا (مجھے اور زیادہ وحشت ہوئی) میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اگر تو اپنا اسباب اس درخت کے نیچے رکھے تو بہتر ہے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر ہمیں بکریاں دکھلائی دیں۔ ابن صائد گیا اور دودھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ابوسعید! دودھ پی۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اور دودھ گرم ہے اور دودھ نہ پینے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہ تھی کہ مجھے اس کے ہاتھ سے پینا برا معلوم ہوا۔ ابن صائد نے کہا کہ اے ابوسعید! میں نے قصد کیا ہے کہ ایک رسی لوں اور درخت میں لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دے لوں ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے حق میں کہتے ہیں۔ اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اتنی کس سے پوشیدہ ہے جتنی تم انصار کے لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ کیا تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں جانتے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ دجال کافر ہو گا اور میں تو مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال لاولد ہو گا اور میری اولاد مدینہ میں موجود ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال مدینہ میں اور مکہ میں نہ جائے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کو جا رہا ہوں؟ سیدنا ابوسعید ؓ نے کہا کہ (اس کی ایسی باتوں کی وجہ سے) قریب تھا کہ میں اس کا طرفدار بن جاؤں (اور لوگوں کا اس کے بارے میں کہنا غلط سمجھوں) کہ پھر کہنے لگا البتہ اللہ کی قسم! میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدائش کا مقام جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کس جگہ ہےتو میں نے اس کو کہا،تیرے لیے آئندہ کے لیے بھی تباہی ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7350]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں