صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2957 ترقیم شاملہ: -- 7418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ، وَالنَّاسُ كَنَفَتَهُ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ، فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ "، فَقَالُوا: مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ، وَمَا نَصْنَعُ بِهِ، قَالَ: " أَتُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ؟ "، قَالُوا: وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ عَيْبًا فِيهِ لِأَنَّهُ أَسَكُّ، فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ؟، فَقَالَ: " فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ "،
سلیمان بن بلال نے جعفر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کی) کسی بالائی جانب سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، لوگ آپ کے پہلو میں (آپ کے ساتھ چل رہے) تھے۔ آپ حقیر سے کانوں والے مرے ہوئے میمنے کے پاس سے گزرے، آپ نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے گا؟“ تو انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: ہمیں یہ کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں، ہم اسے لے کر کیا کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ”(پھر) کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تمھیں مل جائے؟“ انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کی: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو تب بھی اس میں عیب تھا، کیونکہ (ایک تو) یہ حقیر سے کانوں والا ہے (بھلا نہیں لگتا)۔ پھر جب وہ مرا ہوا ہے تو کس کام کا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جتنا تمھارے نزدیک یہ حقیر ہے اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7418]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کی) کسی بالائی جانب سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، لوگ آپ کے پہلو میں (آپ کے ساتھ چل رہے) تھے۔ آپ حقیر سے کانوں والے مرے ہوئے میمنے کے پاس سے گزرے، آپ نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے گا؟“ تو انہوں نے (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) نے کہا: ہمیں یہ کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں، ہم اسے لے کر کیا کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ”(پھر) کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تمہیں مل جائے؟“ انہوں نے (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) نے عرض کی: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو تب بھی اس میں عیب تھا، کیونکہ (ایک تو) یہ حقیر سے کانوں والا ہے (بھلا نہیں لگتا)، پھر جب وہ مرا ہوا ہے تو کس کام کا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جتنا تمہارے نزدیک یہ حقیر ہے، اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7418]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2957
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2957 ترقیم شاملہ: -- 7419
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِيَانِ الثَّقَفِيَّ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ: فَلَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ هَذَا السَّكَكُ بِهِ عَيْبًا.
محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابراہیم بن محمد بن عروہ سامی نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے جعفر (صادق) سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (محمد باقر) سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، البتہ ثقفی کی روایت میں ہے: (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا:) اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی حقیر سے کانوں والا ہونا اس کا عیب تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7419]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے یہی حدیث اس فرق سے بیان کرتے ہیں: ”سو اگر یہ زندہ ہوتا تو تب بھی یہ بوچا پن اس کے لیے عیب و نقص ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7419]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2957
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة