سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب الصلاة قبل المغرب
باب: مغرب سے پہلے سنت پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1283
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں ۱؎ کے درمیان نماز ہے، اس شخص کے لیے جو چاہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1283]
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، جو چاہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 14 (624)، 16 (627)، صحیح مسلم/المسافرین 56 (838)، سنن الترمذی/الصلاة 22 (185)، سنن النسائی/الأذان 39 (682)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 110 (1162)، (تحفة الأشراف: 9658)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 5/54، 56، 57)، سنن الدارمی/الصلاة 145(1480) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (624) صحيح مسلم (838)
حدیث نمبر: 1282
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَرَآكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ رَآنَا" فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1282]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھی ہیں۔“ (مختار کہتے ہیں) میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہ حکم دیا، نہ منع فرمایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 55 (836)، (تحفة الأشراف: 1576) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (836)