سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب التعريف باللقطة
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1715
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ الْتَقَطَ دِينَارًا فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا فَعَرَفَهُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ فَرَدَّ عَلَيْهِ الدِّينَارَ فَأَخَذَهُ عَلِيٌّ وَقَطَعَ مِنْهُ قِيرَاطَيْنِ فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں ایک دینار پڑا ملا، جس سے انہوں نے آٹا خریدا، آٹے والے نے انہیں پہچان لیا، اور دینار واپس کر دیا تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس لے لیا اور اسے بھنا کر اس میں سے دو قیراط ۱؎ کا گوشت خریدا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1715]
بلال بن یحییٰ عبسی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ: ”انہیں ایک دینار ملا، تو انہوں نے اس سے آٹا خریدا، آٹے والے نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پہچان لیا تو اس نے دینار ان کو واپس کر دیا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ لے لیا اور اس میں سے دو قیراط کاٹ کر ان کا گوشت خریدا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:10028) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قیراط: دینار کا بیسواں حصہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (1716)
وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (1716)
حدیث نمبر: 1716
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ وَ حَسَنٌ وَ حُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيهِمَا؟ قَالَتْ: الْجُوعُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّى جَاءَ فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَذَهَبَ فَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمِ لَحْمٍ فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ وَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ مَعَنَا مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ:" كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ"، فَأَكَلُوا، فَبَيْنَمَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ الدِّينَارَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيَ لَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ، اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَكَ: أَرْسِلْ إِلَيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ"، فَأَرْسَلَ بِهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ.
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے بتایا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے تھے، تو انہوں نے پوچھا: یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟ فاطمہ نے کہا: بھوک (سے رو رہے ہیں)، علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا، وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لیے آٹا لے لیجئے، چنانچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا، تو یہودی نے پوچھا: تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ وہ بولے: ہاں، اس نے کہا: اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آٹا لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں: فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا، ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی، اور اپنے والد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بلا بھیجا، آپ تشریف لائے تو وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر کھاؤ“، ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: بازار میں مجھ سے (میرا دینار) گر گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے کہہ رہے ہیں: دینار مجھے بھیج دو، تمہارا درہم میرے ذمے ہے“، چنانچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس (لڑکے) کو دے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1716]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں (گھر میں) آئے تو (دیکھا کہ) حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے ہیں۔ پوچھا: ”یہ کیوں رو رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں۔“ پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ (گھر سے) نکل آئے تو (اتفاق سے) بازار میں انہیں ایک دینار پڑا مل گیا، تو وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بتایا (کہ اس طرح سے ملا ہے۔) انہوں نے کہا: ”فلاں یہودی کے پاس جائیں اور ہمارے لیے آٹا لے آئیں۔“ چنانچہ وہ یہودی کے پاس آئے اور اس سے آٹا خریدا۔ یہودی نے کہا: ”بھلا آپ اس شخص کے داماد ہیں جو اپنے آپ کو رسول اللہ کہتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں!“ تو اس نے کہا: ”دینار اپنے پاس رکھیں اور آٹا لے جائیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس (آٹا) لے آئے اور ساری بات بتائی۔ انہوں نے کہا: ”فلاں قصاب کے پاس جائیں اور ایک درہم کا گوشت لے آئیں۔“ چنانچہ وہ گئے، اپنا دینار اس کے پاس رہن رکھا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا، ہنڈیا چولہے پر رکھی، روٹی پکائی اور اپنے والد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا۔ وہ ان کے ہاں تشریف لے آئے۔ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاؤں اگر آپ اسے حلال فرمائیں تو ہم اسے کھائیں گے اور آپ بھی ہمارے ساتھ کھائیں گے اور اس کا حال اس اس طرح سے ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔“ چنانچہ سب نے کھا لیا۔ ابھی وہ اپنی جگہ (دستر خوان ہی) پر بیٹھے تھے کہ ایک لڑکا، اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر اپنا گمشدہ دینار ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اسے بلایا گیا۔ آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: ”مجھ سے بازار میں (کہیں) گرا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! اس قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اللہ کے رسول فرماتے ہیں: وہ دینار میرے ہاں بھیج دو اور تمہارا درہم میرے ذمے ہے۔“ چنانچہ اس نے دینار بھیج دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس غلام کے حوالے کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4770) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وللحديث شواھد
وللحديث شواھد