سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب في الإقران
باب: حج قران کا بیان۔
حدیث نمبر: 1797
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِيَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَجَدْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَقَدْ نَضَحَتِ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ، فَقَالَتْ: مَا لَكَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" كَيْفَ صَنَعْتَ؟" فَقَالَ: قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ"، قَالَ: فَقَالَ لِي:" انْحَرْ مِنَ الْبُدْنِ سَبْعًا وَسِتِّينَ، أَوْ سِتًّا وَسِتِّينَ، وَأَمْسِكْ لِنَفْسِكَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، أَوْ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَأَمْسِكْ لِي مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ مِنْهَا بَضْعَةً".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر مقرر کر کے بھیجا، میں ان کے ساتھ تھا تو مجھے ان کے ساتھ (وہاں) کئی اوقیہ سونا ملا، جب آپ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، اور گھر میں خوشبو بکھیر رکھی ہے، وہ کہنے لگیں: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا تو انہوں نے احرام کھول دیا ہے، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ سے کہا: میں نے وہ نیت کی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے کیا نیت کی ہے؟“، میں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قِران کیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم سڑسٹھ (۶۷) ۱؎ یا چھیاسٹھ (۶۶) اونٹ (میری طرف سے) نحر کرو اور تینتیس (۳۳) یا چونتیس (۳۴) اپنے لیے روک لو، اور ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا گوشت میرے لیے رکھ لو“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1797]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جب یمن کا والی بنا کر بھیجا تو میں ان کے ساتھ تھا۔ اس خدمت کے صلے میں مجھے چند اوقیہ (سونا) بھی ملا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب یمن سے واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پایا کہ انہوں نے رنگین کپڑے پہنے ہیں اور اپنی منزل کو بھی انہوں نے معطر کر رکھا ہے۔ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا) تو وہ بولیں: ”آپ حیران کیوں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ہے اور وہ حلال ہو گئے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والے احرام کی نیت کر رکھی ہے۔“ کہتے ہیں، چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے (نیت) کیسے کی ہے؟“ میں نے کہا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام والی نیت کی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی قربانی ساتھ لایا ہوں اور قران کی نیت کی ہے۔“ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا: ”سڑسٹھ یا چھیاسٹھ اونٹ نحر کرو اور تینتیس یا چونتیس اونٹ اپنے لیے لے لو اور ہر قربانی میں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا میرے لیے لاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1797]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 52 (2746)، (تحفة الأشراف: 10026)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 61 (4354) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوداود کی روایت میں اسی طرح وارد ہے جو وہم سے خالی نہیں، قیاس یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم (۶۷) یا (۶۶) اونٹ میری طرف سے نحر کرو اور باقی اپنی طرف سے کرنے کے لئے روک لو، اس معنی کے اعتبار سے علی رضی اللہ عنہ سارے اونٹوں کے نحر کرنے والے ہوں گے، حالانکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ ان میں سے اکثر کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نحر کیا تھا، لہٰذا ” تم نحر کرو “ کے معنی یہ ہوں گے کہ انہیں نحر کے لئے تیار کرو اور انہیں منحر میں لے چلو تاکہ میں اپنے ہاتھ سے انہیں نحر کروں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2726،2746)
أبو إسحاق عنعن
ولأ صل الحديث شواھد كثيرة
و حديث البخاري (4353) و مسلم (1232) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
إسناده ضعيف
نسائي (2726،2746)
أبو إسحاق عنعن
ولأ صل الحديث شواھد كثيرة
و حديث البخاري (4353) و مسلم (1232) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
حدیث نمبر: 1749
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهْدَى عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةُ فِضَّةٍ"، قَالَ ابْنُ مِنْهَالٍ:" بُرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ"، زَادَ النُّفَيْلِيُّ:" يَغِيظُ بِذَلِكَ الْمُشْرِكِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال ہدی ۱؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ۲؎ تھا، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ ”سونے کا چھلا تھا“، نفیلی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ”اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو غصہ دلا رہے تھے ۳؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1749]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال قربانی کے جانور (ساتھ) لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان قربانیوں میں ایک اونٹ وہ بھی تھا جو ابوجہل کا تھا، اس کی ناک میں چاندی کا چھلا پڑا ہوا تھا“۔ ابن منہال نے کہا: ”سونے کا چھلا پڑا ہوا تھا“۔ نفیلی نے اضافہ کیا کہ ”آپ اسے مشرکوں کو جلانے کے لیے لے گئے تھے (کہ ان کے سردار کا اونٹ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں ہے)“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6406)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 98 (3100) مسند احمد (1/261، 273) (حسن) بلفظ: ’’فضة‘‘»
وضاحت: ۱؎: ”ہدی“: حج میں ذبح کے لئے لے جانے والے جانور کو کہتے ہیں۔
۲؎: یہ اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ میں بطور غنیمت ملا تھا۔
۳؎: تاکہ یہ تأثر دیا جائے کہ مشرکین کے سردار کا اونٹ مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔
۲؎: یہ اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ میں بطور غنیمت ملا تھا۔
۳؎: تاکہ یہ تأثر دیا جائے کہ مشرکین کے سردار کا اونٹ مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن بلفظ فضة
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2640)
وللحديث شواھد عند مالك (1/337) وابن ماجه (3100، 3101) وغيرھما
مشكوة المصابيح (2640)
وللحديث شواھد عند مالك (1/337) وابن ماجه (3100، 3101) وغيرھما
حدیث نمبر: 1764
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى ابْنَا عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثَلَاثِينَ بِيَدِهِ، وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کے اونٹوں کا نحر کیا تو اپنے ہاتھ سے تیس (۳۰) اونٹ نحر کئے پھر مجھے حکم دیا تو باقی سارے میں نے نحر کئے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1764]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے اونٹ نحر کیے تو ”تیس اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے اور باقی کے متعلق مجھے حکم فرمایا اور میں نے انہیں نحر کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10221) (منکر)» (یہ روایت صحیح مسلم کی روایت کے خلاف ہے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (63) اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے، باقی علی رضی اللہ عنہ نے کئے)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق سمعه من رجل،مجهول،عن ابن أبي نجيح به(أحمد 1/ 260)
وابن أبي نجيح مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
إسناده ضعيف
ابن إسحاق سمعه من رجل،مجهول،عن ابن أبي نجيح به(أحمد 1/ 260)
وابن أبي نجيح مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70