سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب المحرم يحمل السلاح
باب: محرم ہتھیار ساتھ رکھے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1832
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ:" لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ، صَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلْبَانِ السِّلَاحِ"، فَسَأَلْتُهُ: مَا جُلْبَانُ السِّلَاحِ؟، قَالَ:" الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ۱؎ تو میں نے ان سے پوچھا: «جلبان السلاح» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: «جلبان السلاح» میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1832]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تھی تو اس بات پر صلح کی تھی کہ ”یہ لوگ (مسلمان) مکہ میں اس حالت میں داخل ہوں گے کہ ان کے ہتھیار ان کے میانوں میں ہوں گے۔“ (غالباً) شعبہ نے ابواسحٰق سے پوچھا کہ «جِلْبَانُ السِّلَاحِ» کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: ”چمڑے کا وہ تھیلا جس میں ہتھیار رکھا جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 17 (1844)، والصلح 6 (2698)، والجزیة 19 (3184)، والمغازي 43 (4251)، صحیح مسلم/الجہاد 34 (1783)، (تحفة الأشراف: 1871)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/29، 4/289، 291)، سنن الدارمی/السیر 64 (2549) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کی تلواریں میان کے اندر ہی رہیں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2298) صحيح مسلم (1783)
حدیث نمبر: 2765
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ حدَّثَهُمْ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبِطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ: حَلْ حَلْ خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا خَلَأَتْ وَمَا ذَلِكَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْأَلُونِي الْيَوْمَ خُطَّةً يُعَظِّمُونَ بِهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ، فَجَاءَهُ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ، ثُمَّ أَتَاهُ يَعْنِي عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ والْمُغِيَرةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ، وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، وَقَالَ: أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَقَالَ: أَيْ غُدَرُ أَوَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَأَسْلَمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا الْإِسْلَامُ فَقَدْ قَبِلْنَا، وَأَمَّا الْمَالُ فَإِنَّهُ مَالُ غَدْرٍ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْتُبْ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَصَّ الْخَبَرَ فَقَالَ سُهَيْلٌ، وَعَلَى: أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: قُومُوا فَانْحَرُوا، ثُمَّ احْلِقُوا، ثُمَّ جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ مُهَاجِرَاتٌ الْآيَةَ، فَنَهَاهُمُ اللَّهُ أَنْ يَرُدُّوهُنَّ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرُدُّوا الصَّدَاقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَعْنِي فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى إِذْ بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ نَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلَانُ جَيِّدًا، فَاسْتَلَّهُ الْآخَرُ فَقَالَ: أَجَلْ قَدْ جَرَّبْتُ بِهِ فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ: أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسجِدَ يَعْدُو، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا فَقَالَ: قَدْ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ، فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ فَقَالَ: قَدْ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ فَقَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ، ثُمَّ نَجَّانِي اللَّهُ مِنْهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْلَ أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سَيْفَ الْبَحْرِ وَيَنْفَلِتُ أَبُو جَنْدَلٍ، فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ہمراہ نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو قلادہ پہنایا، اور اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے یہاں تک کہ جب ثنیہ میں جہاں سے مکہ میں اترتے ہیں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی، لوگوں نے کہا: ”حل حل“ ۱؎ قصواء اڑ گئی، قصواء اڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصواء اڑی نہیں اور نہ ہی اس کو اڑنے کی عادت ہے، لیکن اس کو ہاتھی کے روکنے والے نے روک دیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو چیز بھی مجھ سے طلب کریں گے جس میں اللہ کے حرمات کی تعظیم ہوتی ہو تو وہ میں ان کو دوں گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹ کر اٹھایا تو وہ اٹھی اور آپ ایک طرف ہوئے یہاں تک کہ میدان حدیبیہ کے آخری سرے پر ایک جگہ جہاں تھوڑا سا پانی تھا جا اترے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدیل بن ورقاء خزاعی آیا، پھر وہ یعنی عروہ بن مسعود ثقفی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے گفتگو کرنے لگا، گفتگو میں عروہ باربار آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگاتا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، وہ تلوار لیے ہوئے اور زرہ پہنے ہوئے تھے، انہوں نے عروہ کے ہاتھ پر تلوار کی کاٹھی ماری اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ دور رکھ، تو عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں، اس پر عروہ نے کہا: اے بدعہد! کیا میں نے تیری عہد شکنی کی اصلاح میں سعی نہیں کی؟ اور وہ واقعہ یوں ہے کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں چند لوگوں کو اپنے ساتھ لیا تھا، پھر ان کو قتل کیا اور ان کے مال لوٹے ۲؎ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا اسلام تو ہم نے اسے قبول کیا، اور رہا مال تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں“ ۳؎ اس کے بعد مسور رضی اللہ عنہ نے آخر تک حدیث بیان کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو، یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصالحت کی ہے“، پھر پورا قصہ بیان کیا۔ سہیل نے کہا: اور اس بات پر بھی کہ جو کوئی قریش میں سے آپ کے پاس آئے گا گو وہ مسلمان ہو کر آیا ہو تو آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے، پھر جب آپ صلح نامہ لکھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اٹھو اور اونٹ نحر (ذبح) کرو، پھر سر منڈا ڈالو“، پھر مکہ کی کچھ عورتیں مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس ہجرت کر کے آئیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو واپس کر دینے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ جو مہر ان کے کافر شوہروں نے انہیں دیا تھا انہیں واپس کر دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو ایک شخص قریش میں سے جس کا نام ابوبصیر تھا، آپ کے پاس مسلمان ہو کر آ گیا، قریش نے اس کو واپس لانے کے لیے دو آدمی بھیجے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر کو ان کے حوالہ کر دیا، وہ ابوبصیر کو ساتھ لے کر نکلے، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو اتر کر اپنی کھجوریں کھانے لگے، ابوبصیر نے ان دونوں میں سے ایک کی تلوار دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! تمہاری تلوار بہت ہی عمدہ ہے، اس نے میان سے نکال کر کہا: ہاں میں اس کو آزما چکا ہوں، ابوبصیر نے کہا: مجھے دکھاؤ ذرا میں بھی تو دیکھوں، اس قریشی نے اس تلوار کو ابوبصیر کے ہاتھ میں دے دی، تو انہوں نے (اسی تلوار سے) اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا، (یہ دیکھ کر) دوسرا ساتھی بھاگ کھڑا ہوا یہاں تک کہ وہ مدینہ واپس آ گیا اور دوڑتے ہوئے مسجد میں جا گھسا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ڈر گیا ہے“، وہ بولا: قسم اللہ کی! میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا، اتنے میں ابوبصیر آ پہنچے اور بولے: اللہ کے رسول! آپ نے اپنا عہد پورا کیا، مجھے کافروں کے حوالہ کر دیا، پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تباہی ہو اس کی ماں کے لیے، عجب لڑائی کو بھڑکانے والا ہے، اگر اس کا کوئی ساتھی ہوتا“، ابوبصیر نے جب یہ سنا تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر انہیں ان کے حوالہ کر دیں گے، چنانچہ وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے اور (ابوجندل جو صلح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے لیکن آپ نے انہیں واپس کر دیا تھا) کافروں کی قید سے اپنے آپ کو چھڑا کر ابوبصیر سے آ ملے یہاں تک کہ وہاں ان کی ایک جماعت بن گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2765]
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے موقع پر چودہ، پندرہ سو صحابہ کی معیت میں روانہ ہوئے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا اور اس کے کوہان پر چیر لگایا (اشعار کیا) اور عمرے کا احرام باندھا۔ اور حدیث بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب اس گھاٹی پر پہنچے جہاں سے اہل مکہ کی طرف اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری بیٹھ گئی۔ لوگوں نے کہا: «حَلْ حَلْ» (اونٹ کو اٹھانے کی آواز ہے) ”قصواء بگڑ گئی ہے (یا اڑ گئی ہے)“ دو بار کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ بگڑی ہے اور نہ اس کی یہ عادت ہے، اسے ہاتھی کو روکنے والے نے روکا ہے۔“ پھر فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ لوگ آج مجھے جو بھی کوئی ایسی تجویز پیش کریں گے جس سے وہ اللہ کی حرمتوں کی تعظیم بجا لائیں تو میں اسے قبول کر لوں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے راستہ تبدیل کر لیا حتی کہ حدیبیہ کے پار ایک کنویں پر جا اترے، اس میں پانی بہت تھوڑا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدیل بن ورقاء خزاعی آیا۔ اس کے بعد عروہ بن مسعود آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا۔ وہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک پر ہاتھ پھیرتا۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی کھڑے تھے، ان کے ہاتھ میں تلوار اور سر پر خود تھی، (عروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی پر ہاتھ لگاتا تو) وہ اپنی تلوار کا دستہ اس کے ہاتھ پر دے مارتے اور کہتے: ”دور کر اپنا ہاتھ ان کی داڑھی سے۔“ عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ حاضرین نے کہا: ”یہ مغیرہ بن شعبہ ہیں۔“ تو وہ بولا: ”اے دھوکے باز! کیا میں تیرے دھوکے اور فساد میں صلح صفائی نہیں کراتا رہا ہوں؟“ (دراصل) مغیرہ رضی اللہ عنہ قبل از اسلام کچھ لوگوں کے ساتھ تھے تو ان کو قتل کر دیا، ان کے مال لوٹ لیے، پھر جا کر اسلام قبول کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام تو ہم نے قبول کر لیا مگر مال چونکہ دھوکے کا ہے اس لیے ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“ اور حدیث بیان کی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو یہ وہ (عہد نامہ) ہے جس پر محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اتفاق کیا ہے۔“ اور پورا قصہ بیان کیا۔ سہیل نے کہا: ”اور ہم میں سے جو کوئی بھی آپ کے پاس آئے خواہ وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو وہ آپ کو ہماری طرف واپس کرنا ہو گا۔“ پھر جب عہد نامے کی تحریر سے فارغ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اٹھو! قربانیاں کرو اور اپنے سر مونڈ لو۔“ پھر مومن اور مہاجر عورتیں آئیں (تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ) تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انہیں واپس نہیں لوٹانا، البتہ یہ حکم دیا کہ ان کے حق مہر واپس کر دیے جائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ قریش کا ایک آدمی ابوبصیر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ تو ان لوگوں نے اس کو لینے کے لیے اپنے دو آدمی بھیج دیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے حوالے کر دیا۔ وہ اسے لے کر چلے گئے حتیٰ کہ جب ذوالحلیفہ مقام پر پہنچے تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور اپنی کھجوریں کھانے لگے۔ ابوبصیر نے ان میں سے ایک کو کہا: ”ارے! تیری یہ تلوار تو بہت عمدہ دکھائی دیتی ہے۔“ اس نے اسے میان سے نکالا اور کہا: ”ہاں ہاں میں نے اس کو بہت آزمایا ہے۔“ ابوبصیر نے کہا: ”دکھانا ذرا، میں اسے دیکھوں تو سہی۔“ اور وہ اس نے اس کو پکڑا دی۔ پس ابوبصیر نے وہ اسے دے ماری حتیٰ کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اور اس کے ساتھ والا دوسرا آدمی بھاگ کر مدینے آ گیا اور بھاگتے بھاگتے مسجد میں چلا آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ خوف زدہ ہے) اس نے کوئی خوفناک چیز دیکھی ہے۔“ وہ بولا: ”اللہ کی قسم میرا ساتھی قتل کر دیا گیا ہے اور میں بھی مارا جانے والا ہوں۔“ پھر ابوبصیر بھی آ گیا تو اس نے کہا: ”اللہ نے آپ کی ذمہ داری پوری کرا دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے حوالے کر دیا تھا، پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ماں کا افسوس! یہ تو جنگ کی آگ بھڑکانے والا ہے اگر کوئی اسے مل جائے۔“ جب اس نے یہ سنا تو سمجھ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ان لوگوں کی طرف لوٹا دیں گے۔ سو وہ وہاں سے نکل کھڑا ہوا اور ساحل سمندر پر آ گیا۔ پھر ابوجندل بھی نکل بھاگا اور ابوبصیر کے ساتھ جا ملا حتیٰ کہ وہاں ایک جماعت اکٹھی ہو گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 106 (1694)، والشروط 16 (2734)، والمغازي 35 (4148)، ن الحج 62 (2772)، (تحفة الأشراف: 11270)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/323، 327، 328) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”حل حل“: یہ کلمہ اس وقت کہا جاتا ہے جب اونٹنی رک جائے اور چلنا چھوڑ دے۔
۲؎: اصل واقعہ یہ ہے کہ بنو مالک کی شاخ ثقیف کے تیرہ لوگوں کے ساتھ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ مقوقس مصر کی زیارت کے لئے نکلے تھے واپسی میں مقوقس مصر نے ان لوگوں کو خوب خوب ہدایا و تحائف دئیے لیکن مغیرہ رضی اللہ عنہ کو کم نوازا جس کی وجہ سے انہیں غیرت آ گئی، راستے میں ان لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور شراب اس قدر پی کہ سب مدہوش ہو گئے، مغیرہ رضی اللہ عنہ کو اچھا موقع ہاتھ آیا انہوں نے سب کو قتل کر دیا اور سب کے سامان لے لئے، بعد میں مقتولین کے ورثاء نے عروہ بن مسعود ثقفی سے جھگڑا کیا کیونکہ مغیرہ رضی اللہ عنہ ان کے بھتیجے تھے بمشکل عروہ نے ان سب کو دیت پر راضی کرکے فیصلہ کرایا، اسی احسان کی طرف عروہ نے اشارہ کیا ہے۔
۳؎: کیونکہ یہ مکر اور فریب سے حاصل ہوا ہے۔
۲؎: اصل واقعہ یہ ہے کہ بنو مالک کی شاخ ثقیف کے تیرہ لوگوں کے ساتھ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ مقوقس مصر کی زیارت کے لئے نکلے تھے واپسی میں مقوقس مصر نے ان لوگوں کو خوب خوب ہدایا و تحائف دئیے لیکن مغیرہ رضی اللہ عنہ کو کم نوازا جس کی وجہ سے انہیں غیرت آ گئی، راستے میں ان لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور شراب اس قدر پی کہ سب مدہوش ہو گئے، مغیرہ رضی اللہ عنہ کو اچھا موقع ہاتھ آیا انہوں نے سب کو قتل کر دیا اور سب کے سامان لے لئے، بعد میں مقتولین کے ورثاء نے عروہ بن مسعود ثقفی سے جھگڑا کیا کیونکہ مغیرہ رضی اللہ عنہ ان کے بھتیجے تھے بمشکل عروہ نے ان سب کو دیت پر راضی کرکے فیصلہ کرایا، اسی احسان کی طرف عروہ نے اشارہ کیا ہے۔
۳؎: کیونکہ یہ مکر اور فریب سے حاصل ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2731، 2732)
حدیث نمبر: 4655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَتَاهُ يَعْنِي عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، وَقَالَ: أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے، پھر راوی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس وہ یعنی عروہ بن مسعود آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا، جب وہ آپ سے بات کرتا، تو آپ کی ڈاڑھی پر ہاتھ لگاتا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود، انہوں نے تلوار کے پر تلے کے نچلے حصہ سے اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا: اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی سے دور رکھ، عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 4655]
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے دنوں میں روانہ ہوئے، اور حدیث بیان کی، کہا کہ پھر (مشرکین کی طرف سے) عروہ بن مسعود آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے لگا اور اس اثنا میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک کو بھی ہاتھ لگاتا تھا۔ جبکہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر کھڑے ہوئے تھے، ان کے ہاتھ میں تلوار اور سر پر خود تھی۔ تو انہوں نے اپنی تلوار کے دستے سے عروہ کے ہاتھ کو ٹھوکا دیا اور کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک سے اپنا ہاتھ دور رکھ۔“ عروہ نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ صحابہ نے کہا: ”یہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 4655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2765)، (تحفة الأشراف: 11270) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديثين السابقين (2765، 2766)
انظر الحديثين السابقين (2765، 2766)