🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. باب التحصيب
باب: وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2013
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2013]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں، پھر کچھ دیر سوئے، پھر مکہ میں داخل ہوئے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6658، 7590) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2012)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2012
حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ" يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2012]
جناب نافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (منیٰ سے واپسی پر) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ «بَطْحَاء» (اَبْطَح، مُحَصَّب) میں ذرا دیر سوتے، پھر مکہ میں داخل ہوتے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔(یعنی طواف وداع کیا کرتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6658، 7590)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 148(1767)، صحیح مسلم/الحج 59 (1275)، سنن الترمذی/الحج 81 (921)، سنن ابن ماجہ/المناسک 81 (3068)، مسند احمد (2/28، 138) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (1768 مطولًا)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2045
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَ الْمُعَرَّسِ إِذَا قَفَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُ، لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، قَالَ: الْمُعَرَّسُ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنْ الْمَدِينَةِ.
مالک کہتے ہیں جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا: معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2045]
امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا: مدینہ واپس لوٹنے والے کو لائق نہیں کہ مقامِ «مُعَرَّس» (بطحاء مسجد ذی الحلیفہ) سے ویسے ہی گزر جائے، بلکہ چاہیے کہ جس قدر دل چاہے نماز پڑھے کیونکہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں یہاں اترتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسحاق مدنی سے سنا تھا کہ معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، موطا امام مالک/الحج/ عقب حدیث (206) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الف: انظر الحديث السابق (2044)، ب: رواية عبدالله العمري عن نافع قوية

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں