سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب في تزويج الصغار
باب: کمسن بچیوں کے نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: 2121
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَوْ سِتٍّ. وَدَخَلَ بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اس وقت سات سال کی تھی (سلیمان کی روایت میں ہے: چھ سال کی تھی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے (شب زفاف منائی) اس وقت میں نو برس کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2121]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر سات سال تھی۔“ سلیمان نے کہا: ”یا چھ سال۔“ ”اور مجھ سے ملاپ ہوا (میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بھیجی گئی) تو میں نو سال کی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17106، 16871)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 38 (5133)، 39 (5134)، 59 (5158)، صحیح مسلم/النکاح 10 (1422)، سنن ابن ماجہ/النکاح 13 (1876)، سنن النسائی/النکاح 29 (3257)، مسند احمد (6/118)، سنن الدارمی/النکاح 56 (2307) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3896) صحيح مسلم (1422)
حدیث نمبر: 4933
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَنِي وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ أَوْ سِتٍّ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَ نِسْوَةٌ، وَقَالَ بِشْرٌ: فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ فَذَهَبْنَ بِي وَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي، فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعٍ فَوَقَفَتْ بِي عَلَى الْباب، فَقُلْتُ: هِيهْ هِيهْ" , قَالَ أَبُو دَاوُد: أَيْ تَنَفَّسَتْ فَأُدْخِلْتُ بَيْتًا فَإِذَا فِيهِ نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ , دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي الْآخَرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، میں سات سال کی تھی، پھر جب ہم مدینہ آئے، تو کچھ عورتیں آئیں، بشر کی روایت میں ہے: پھر میرے پاس (میری والدہ) ام رومان آئیں، اس وقت میں ایک جھولہ پر تھی، وہ مجھے لے گئیں اور مجھے سنوارا سجایا پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں، تو آپ نے میرے ساتھ رات گزاری، اس وقت میں نو سال کی تھی وہ مجھے لے کر دروازے پر کھڑی ہوئیں، میں نے کہا: «هيه هيه» ۔ (ابوداؤد کہتے ہیں: «هيه هيه» کا مطلب ہے کہ انہوں نے زور زور سے سانس کھینچی)، عائشہ کہتی ہیں: پھر میں ایک کمرے میں لائی گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں (پہلے سے بیٹھی ہوئی) ہیں، انہوں نے «على الخير والبركة» کہہ کر مجھے دعا دی۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 4933]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو میری عمر سات سال یا چھ سال تھی۔ جب ہم مدینہ منورہ آئے تو چند عورتیں آئیں۔ بشر بن خالد کے الفاظ ہیں: (میری والدہ) ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں۔ جبکہ میں ایک جھولے پر تھی اور وہ مجھے لے گئیں۔ مجھے تیار کیا، بنایا سنوارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بھیج دیا گیا۔ میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو سال تھی۔ (میری والدہ نے) مجھے دروازے پر کھڑا کر دیا تو میں نے کہا: «هَيْهْ هَيْهْ» یعنی ”انکار کرنے کی آواز“۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ اس کی وضاحت میں کہتے ہیں: ”یعنی میں نے لمبا (ٹھنڈا) سانس لیا اور مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا گیا تو وہاں انصار کی کچھ عورتیں تھیں۔ انہوں نے دعائے خیر و برکت کے ساتھ میرا استقبال کیا۔“ حماد اور ابو اسامہ کی روایت ایک دوسرے میں مل گئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 4933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 16855، 16881) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3894) صحيح مسلم (1422)
حدیث نمبر: 4935
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ، فَذَهَبْنَ بِي فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي، ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے، تو میرے پاس کچھ عورتیں آئیں، اس وقت میں جھولے پر کھیل رہی تھی، اور میرے بال چھوٹے چھوٹے تھے، وہ مجھے لے گئیں، مجھے بنایا سنوارا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں، آپ نے میرے ساتھ رات گزاری کی، اس وقت میں نو سال کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 4935]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جب ہم مدینے آئے تو میرے پاس کچھ عورتیں آئیں جبکہ میں ایک جھولے پر کھیل رہی تھی اور میرے بال کانوں سے نیچے اتر رہے تھے، تو وہ مجھے لے گئیں اور مجھے تیار کیا، بنایا سنوارا، پھر وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئیں، میری (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر) رخصتی ہوئی تو میری عمر نو سال تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 4935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 16881) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق (4933)
انظر الحديث السابق (4933)