🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب في الطلاق قبل النكاح
باب: نکاح سے پہلے طلاق دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2190
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا طَلَاقَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا بَيْعَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ، زَادَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: وَلَا وَفَاءَ نَذْرٍ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طلاق صرف انہیں میں ہے جو تمہارے نکاح میں ہوں، اور آزادی صرف انہیں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں، اور بیع بھی صرف انہیں چیزوں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔ ابن صباح کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ (تمہارے ذمہ) صرف اسی نذر کا پورا کرنا ہے جس کے تم مالک ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2190]
عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے اور وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالک بنے بغیر طلاق نہیں، مالک بنے بغیر آزاد کرنا نہیں، اور مالک بنے بغیر فروخت نہیں۔ ابن صباح نے یہ اضافہ بھی بیان کیا: اور مالک بنے بغیر کسی نذر کا پورا کرنا نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8736، 8804)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/189، 190)، سنن الترمذی/الطلاق 6 (1181)، ق 17 (2047) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3282)
رواه الترمذي (1181 وسنده حسن) وابن ماجه (2047 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3272
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: إِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْقِسْمَةِ، فَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ الْكَعْبَةَ غَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَكَلِّمْ أَخَاكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَمِينَ عَلَيْكَ، وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ، وَفِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ، وَفِيمَا لَا تَمْلِكُ".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انصار کے دو بھائیوں میں میراث کی تقسیم کا معاملہ تھا، ان میں کے ایک نے دوسرے سے میراث تقسیم کر دینے کے لیے کہا تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبہ کے دروازے کے اندر ہو گا ۱؎ تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کعبہ تمہارے مال کا محتاج نہیں ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے کر اپنے بھائی سے (تقسیم میراث کی) بات چیت کرو (کیونکہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: قسم اور نذر اللہ کی نافرمانی اور رشتہ توڑنے میں نہیں اور نہ اس مال میں ہے جس میں تمہیں اختیار نہیں (ایسی قسم اور نذر لغو ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3272]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انصاریوں میں دو بھائیوں میں وراثت کا معاملہ تھا۔ ایک نے دوسرے سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: اگر تو نے مجھ سے دوبارہ تقسیم کی بات کی تو میرا سب مال کعبہ کے لیے وقف ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: کعبہ تیرے مال کا محتاج نہیں۔ اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور اپنے بھائی سے (تقسیم کے بارے میں) بات کر۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلَا فِيمَا لَا تَمْلِكُ» رب تعالیٰ کی نافرمانی میں تیری کوئی قسم ہے، نہ نذر اور نہ قطع رحمی میں نذر ہے اور نہ اس چیز میں جس کا تو مالک نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10447) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی کعبہ کے لئے وقف ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3443)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3273
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نَذْرَ إِلَّا فِيمَا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، وَلَا يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف ان چیزوں میں نذر جائز ہے جس سے اللہ کی رضا و خوشنودی مطلوب ہو اور قسم (قطع رحمی) ناتا توڑنے کے لیے جائز نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3273]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نذر نہیں سوائے اس کے جس میں اللہ کی رضا مقصود ہو اور نہ قطع رحمی میں قسم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (2192) (تحفة الأشراف: 8736) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديثين السابقين (2191، 2192)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3274
حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَدَعْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ إِلَّا فِيمَا لَا يُعْبَأُ بِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: تَرَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ، قَالَ أَحْمَدُ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ، وَأَبُوهُ لَا يُعْرَفُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں، اور نہ ناتا توڑنے میں، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے (پوری نہ کرے) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تمام حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۱؎ اور چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں مگر جو قسمیں بے سوچے کھائی جاتی ہیں اور ان کا خیال نہیں کیا جاتا تو ان کا کفارہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پہلے کی تھی، پھر ترک کر دیا، اور وہ اسی کے لائق تھے کہ ان سے روایت چھوڑ دی جائے، احمد کہتے ہیں: ان کی حدیثیں منکر ہیں اور ان کے والد غیر معروف ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3274]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابنِ آدم جس چیز کا مالک نہ ہو اس میں نذر نہیں اور نہ اس میں قسم ہے اور نہ اللہ کی نافرمانی میں اور نہ قطع تعلقی میں۔ اور جس نے قسم کھائی ہو اور پھر اس کے خلاف دوسرے پہلو میں زیادہ خیر دیکھے تو چاہیے کہ قسم چھوڑ دے اور جو خیر ہو اس پر عمل کرے۔ بلاشبہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب احادیث میں یہی ہے کہ قسم کا کفارہ ادا کرے، مگر ان روایات میں (اس کے برعکس بیان ہوا ہے) جن کا کوئی اعتبار نہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: بعد میں چھوڑ دیا تھا اور وہ اسی لائق تھا۔ اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: اس کی احادیث منکر (ازحد ضعیف) ہیں اور اس کا باپ غیر معروف ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الأیمان 16 (3823)، (تحفة الأشراف: 8754)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/212) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس روایت کا یہ جملہ  «فإن تركها كفارتها»  منکر ہے کیوں کہ یہ دیگر تمام صحیح روایات کے برخلاف ہے، صحیح روایات کا مستفاد ہے کہ کفارہ دینا ہو گا)
وضاحت: ۱؎: یعنی مرفوع ہیں۔
۲؎: ابوداود کا یہ کلام کسی اور حدیث کی سند کی بابت ہے، نُسَّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن إلا قوله ومن حلف فهو منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
رواه النسائي (3823 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (3273)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3289
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ، فَلَا يَعْصِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت کی نذر مانے تو اللہ کی اطاعت کرے اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3289]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی ہو اسے چاہیے کہ (اسے پورا کرتے ہوئے) اللہ کی اطاعت کرے، اور جس نے اللہ کی معصیت اور نافرمانی کی نذر مانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ (اور نذر کو چھوڑ دے)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأیمان 28 (6696)، 31 (6700)، سنن الترمذی/الأیمان 2 (1526)، سنن النسائی/الأیمان 26 (3837)، 27 (3838، 3839)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 16 (2126)، (تحفة الأشراف: 17458)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النذور 4 (8)، مسند احمد (6/36، 41، 224)، سنن الدارمی/النذور 3 (2383) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: گویا معصیت کی نذر نہیں پوری کی جائے گی کیونکہ یہ غیر مشروع ہے، لیکن کفارہ دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6696، 6700)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3290
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3290]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأیمان 2 (1524)، سنن النسائی/الأیمان 40 (3865-3869)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 16 (2125)، (تحفة الأشراف: 17770)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/247) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الزھري صرح بالسماع عند النسائي (3869 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3292
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتيِقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ"، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ: إِنَّمَا الْحَدِيثُ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ،عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَادَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَرْقَمَ وَهِمَ فِيهِ، وَحَمَلَهُ عَنْهُ الزُّهْرِيُّ، وَأَرْسَلَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَحِمَهَا اللَّهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى بَقِيَّةُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، بِإِسْنَادِ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ مِثْلَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں: اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اور عمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحییٰ سے، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3292]
احمد بن محمد مروزی نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب بن سلیمان نے بیان کیا ابوبکر بن ابی اویس سے، انہوں نے سلیمان بن بلال سے، انہوں نے ابن ابی عتیق اور موسیٰ بن عقبہ سے، (دونوں نے) ابن شہاب زہری سے، انہوں نے سلیمان بن ارقم سے روایت کیا ہے کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے ان کو خبر دی ابوسلمہ سے، انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت میں کوئی نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔ احمد بن محمد مروزی نے کہا: اصل میں حدیث کی سند یوں ہے، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر سے، وہ محمد بن زبیر سے، وہ اپنے والد سے، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ مروزی کا مقصد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس میں وہم ہوا ہے۔ زہری نے اس سے روایت کرتے ہوئے (دو واسطے چھوڑ دیے اور) اسے ابوسلمہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل کر دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بقیہ نے اوزاعی سے، انہوں نے یحییٰ سے، انہوں نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے مثل بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3290)، (تحفة الأشراف: 17782) (صحیح بما قبلہ)» ‏‏‏‏ (اس سند میں سلیمان بن ارقم ضعیف راوی ہیں اس لئے پچھلی سند سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3435، 3441)
و للحديث شواھد منھا الحديث السابق (3290)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3313
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ:" نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِن أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ".
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک جگہ کا نام ہے) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3313]
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ پر ایک اونٹ ذبح کرے گا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: بے شک میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا وہاں جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی عبادت ہوتی رہی ہو؟ صحابہ نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ جگہ ان کی میلہ گاہ تھی؟ صحابہ نے کہا: نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لے، تحقیق ایسی نذر کی کوئی وفا نہیں جس میں اللہ کی نافرمانی ہو، اور نہ اس کی جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 3313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2065) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3437، 3438)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں