سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب في الكحل عند النوم للصائم
باب: روزہ دار کے سوتے وقت سرمہ لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2377
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ هَوْذَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" أَمَرَ بِالْإِثْمِدِ الْمُرَوَّحِ عِنْدَ النَّوْمِ". وَقَالَ:" لِيَتَّقِهِ الصَّائِمُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ يَعْنِي حَدِيثَ الْكُحْلِ.
معبد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک ملا ہوا سرمہ سوتے وقت لگانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”روزہ دار اس سے پرہیز کرے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ یعنی سرمہ والی حدیث منکر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2377]
عبدالرحمٰن بن نعمان اپنے والد سے، وہ دادا سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سوتے وقت کستوری ملا سرمہ استعمال کیا جائے اور فرمایا: ”روزہ دار اس سے پرہیز کرے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مجھے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: یہ سرمے والی حدیث منکر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11460)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/476، 499، 500)، سنن الدارمی/الصوم 28 (1774) (ضعیف)» (اس کے راوی نعمان بن معبد مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نعمان بن معبد مجهول (تقريب التهذيب: 7161) لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
إسناده ضعيف
نعمان بن معبد مجهول (تقريب التهذيب: 7161) لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
حدیث نمبر: 3878
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو، اور تمہارے سرموں میں سب سے اچھا اثمد ہے، وہ روشنی بڑھاتا اور (پلک کے) بالوں کو اگاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 3878]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کپڑے سفید پہنا کرو، یہ تمہارے لباسوں میں سے بہتر لباس ہے، اسی میں اپنی میتوں کو کفن دیا کرو اور تمہارے سرموں میں سے بہترین سرمہ «الْإِثْمِدُ» ”اثمد“ ہے جو بینائی کو تیز کرتا اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 3878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 18 (994)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 12 (1472)، الطب 25 (3497)، اللباس 5 (3566)، (تحفة الأشراف: 5534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/231، 247، 274، 328، 355، 363) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (994 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (4061)
أخرجه الترمذي (994 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (4061)
حدیث نمبر: 4061
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا خَيْرُ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفناؤ اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ نگاہ کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 4061]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو، بلاشبہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر ہیں اور انہی میں اپنی میتوں کو کفن دیا کرو۔ اور تمہارے سرموں میں سب سے بہتر سرمہ «الْإِثْمِدُ» ”اثمد“ ہے جو نظر کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 4061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (3878)، (تحفة الأشراف: 5534) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1638)
انظر الحديث السابق (3878)
مشكوة المصابيح (1638)
انظر الحديث السابق (3878)