🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب في ميراث ذوي الأرحام
باب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2904
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَسْوَدَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ، فَقَالَ: الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا، أَوْ ذَا رَحِمٍ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا وَلَا ذَا رَحِمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطُوهُ الْكُبْرَ مِنْ خُزَاعَةَ"، وَقَالَ يَحْيَى: قَدْ سَمِعْتُهُ مَرَّةً يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: انْظُرُوا أَكْبَرَ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خزاعہ (قبیلہ) کے ایک شخص کا انتقال ہو گیا، اس کی میراث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا: اس کا کوئی وارث یا ذی رحم تلاش کرو تو نہ اس کا کوئی وارث ملا، اور نہ ہی کوئی ذی رحم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزاعہ میں سے جو بڑا ہو اسے میراث دیدو۔ یحییٰ کہتے ہیں: ایک بار میں نے شریک سے سنا وہ اس حدیث میں یوں کہتے تھے: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اسے دے دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2904]
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو خزاعہ کا ایک آدمی فوت ہو گیا تو اس کی میراث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کوئی وارث یا ذی رحم تعلق دار تلاش کرو۔ مگر کوئی وارث یا ذی رحم تعلق دار نہ ملا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مال بنو خزاعہ کے بڑے کو دے دو یعنی جو قبیلہ کے جد اعلیٰ سے قریب تر ہو۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: میں نے شریک سے اس حدیث میں ایک بار یوں سنا: بنو خزاعہ کے سب سے بڑی عمر والے کو دیکھو۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1955) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اوپری نسب میں خزاعہ سے نزدیک ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (6394)
شريك القاضي عنعن
و الحديث السابق (2903) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2902
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ، وقَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاهُنَا أَحَدٌ مَنْ أَهْلِ أَرْضِهِ، قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَأَعْطُوهُ مِيرَاثَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام مر گیا، کچھ مال چھوڑ گیا اور کوئی وارث نہ چھوڑ ا، نہ کوئی اولاد، اور نہ کوئی عزیز، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی روایت سب سے زیادہ کامل ہے، مسدد کی روایت میں ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہاں کوئی اس کا ہم وطن ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ترکہ اس کو دے دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2902]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام فوت ہو گیا اور کچھ مال چھوڑ گیا، اس کی کوئی اولاد اور کوئی رشتہ دار نہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی وراثت اس کی بستی والوں میں سے کسی کو دے دو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان رحمہ اللہ کی روایت زیادہ کامل ہے۔ اور مسدد رحمہ اللہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا یہاں کوئی اس کے علاقے کا رہنے والا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی وراثت اسی کو دے دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفرائض 13 (2105)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 7 (2733)، (تحفة الأشراف: 16381)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137، 174، 181) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وہ ترکہ آپ کا حق تھا مگر آپ نے اس کے ہم وطن پر اسے صدقہ کر دیا، امام کو ایسا اختیار ہے اس میں کوئی مصلحت ہی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3055)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2903
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ:" إِنَّ عِنْدِي مِيرَاثَ رَجُلٍ مِنْ الْأَزْدِ وَلَسْتُ أَجِدُ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ قَالَ: اذْهَبْ فَالْتَمِسْ أَزْدِيًّا حَوْلًا، قَالَ: فَأَتَاهُ بَعْدَ الْحَوْلِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَجِدْ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَانْظُرْ أَوَّلَ خُزَاعِيٍّ تَلْقَاهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: عَلَيَّ الرَّجُلُ، فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ: انْظُرْ كُبْرَ خُزَاعَةَ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کو میرے پاس بلا کے لاؤ، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2903]
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا: میرے پاس قبیلہ ازد کے ایک آدمی کی میراث ہے اور مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ اسے دے دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ایک سال تک تلاش کرتے رہو کہ کوئی قبیلہ ازد سے مل جائے۔۔ چنانچہ وہ ایک سال کے بعد آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ اس کے حوالے کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور بنو خزاعہ کا جو آدمی تمہیں سب سے پہلے ملے یہ اس کے حوالے کر دو۔ جب اس نے پیٹھ پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزاعہ کا بڑا آدمی دیکھو یعنی جو جدِ اعلیٰ سے قریب تر ہو، تو یہ میراث اس کے حوالے کر دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ’’جبریل بن احمر‘‘ ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: کیونکہ جو سب سے بڑا ہو گا وہ اپنے جد اعلیٰ سے زیادہ قریب ہو گا اور جو اپنے جد اعلیٰ سے قریب ہو گا ازد سے بھی زیادہ قریب ہو گا کیونکہ خزاعہ ازد ہی کی ایک شاخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف بل صحيح
نسائي في الكبريٰ (6396)
المحاربي عنعن وھو مدلس
ولكن تابعه عباد بن العوام (نك 6395) فالحديث حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں