🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
113. باب من قال تجمع بين الصلاتين وتغتسل لهما غسلا
باب: مستحاضہ عورت ایک غسل سے دو نمازیں پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأُمِرَتْ أَنْ تُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَأَنْ تُؤُخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا"، فَقُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ ہوا تو اسے حکم دیا گیا کہ عصر جلدی پڑھے اور ظہر میں دیر کرے، اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب کو مؤخر کرے، اور عشاء میں جلدی کرے اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔ شعبہ کہتے ہیں: تو میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے پوچھا: کیا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے؟ اس پر انہوں نے کہا: میں جو کچھ تم سے بیان کرتا ہوں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے مروی ہوتا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 294]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ آنے لگا تو اسے حکم دیا گیا کہ نماز عصر کو جلدی اور ظہر کو مؤخر کرے۔ اور ان دونوں (نمازوں) کے لیے ایک غسل کرے۔ اور مغرب کو مؤخر اور عشاء کو جلدی کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے اور فجر کی نماز کے لیے ایک غسل کرے۔ میں نے (یعنی شعبہ نے) عبدالرحمٰن سے کہا: کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے؟ انہوں نے کہا: میں تجھے جو بھی بیان کرتا ہوں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی حدیث ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 136 (214)، والحیض 5 (360)، (تحفة الأشراف: 17495)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة 82 (798) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اصل میں عبارت یوں ہے: «لا أحدثك إلا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم شيء» جو معنوی اعتبار سے یوں ہے: «لاأحدثك بشيء إلا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » ، ترجمہ اسی اعتبار سے کیا گیا ہے، اور بعض نسخوں میں عبارت یوں ہے: «لاأحدثك عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم بشيء» ، یعنی غصہ سے کہا کہ: اب میں تم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ روایت نہیں کیا کروں گا ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَغَيْرُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَقُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَمَا تَرَى فِيهَا قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ؟ فَقَالَ: أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ، قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَاتَّخِذِي ثَوْبًا، فَقَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ، أَيَّهُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ، قَالَ لَهَا: إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي، فَإِنَّ ذَلِكَ يَجْزِيكِ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، فَافْعَلِي، وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ، فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَدِرْتِ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: فَقَالَتْ حَمْنَةُ: فَقُلْتُ: هَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ، لَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَهُ كَلَامَ حَمْنَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ رَافِضِيٌّ رَجُلُ سُوءٍ، وَلَكِنَّهُ كَانَ صَدُوقًا فِي الْحَدِيثِ، وَثَابِتُ بْنُ الْمِقْدَامِ رَجُلٌ ثِقَةٌ، وَذَكَرَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ، يَقُولُ: حَدِيثُ ابْنِ عَقِيلٍ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ.
حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے استحاضہ کا خون کثرت سے آتا تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے مسئلہ پوچھنے، اور آپ کو اس کی خبر دینے آئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے گھر پایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بہت زیادہ خون آتا ہے، اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں (شرمگاہ پر) روئی رکھنے کا مشورہ دیتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہو جائے گا، حمنہ نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لنگوٹ باندھ کر اس کے نیچے کپڑا رکھ لو، انہوں نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، بہت تیزی سے نکلتا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں، ان دونوں میں سے جس کو بھی تم اختیار کر لو وہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اگر تمہارے اندر دونوں پر عمل کرنے کی طاقت ہو تو تم اسے زیادہ جانتی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو شیطان کی لات ہے، لہٰذا تم (ہر ماہ) اپنے آپ کو چھ یا سات دن تک حائضہ سمجھو، پھر غسل کرو، اور جب تم اپنے آپ کو پاک و صاف سمجھ لو تو تیئس یا چوبیس روز نماز ادا کرو اور روزے رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور جس طرح عورتیں حیض و طہر کے اوقات میں کرتی ہیں اسی طرح ہر ماہ تم بھی کر لیا کرو، اور اگر تم ظہر کی نماز مؤخر کرنے اور عصر کی نماز جلدی پڑھنے پر قادر ہو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو جمع کر لو اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء میں جلدی کرو اور غسل کر کے دونوں نماز کو ایک ساتھ ادا کرو، اور ایک نماز فجر کے لیے غسل کر لیا کرو، تو اسی طرح کرو، اور روزہ رکھو، اگر تم اس پر قادر ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں باتوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے، انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں بلکہ حمنہ رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ثابت رافضی برا آدمی ہے، لیکن حدیث میں صدوق ہے- اور ثابت بن مقدام ثقہ آدمی ہیں- ۱؎، اس کا ذکر انہوں نے یحییٰ بن معین کے واسطے سے کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا: ابن عقیل کی حدیث کے بارے میں میرے دل میں بے اطمینانی ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 287]
عمران بن طلحہ اپنی والدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، حمنہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ مجھے بہت زیادہ اور بڑا سخت استحاضہ ہوتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حالت بتاؤں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے گھر میں پایا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں جسے بہت سخت، شدید استحاضہ ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے بھی روک رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم روئی رکھ لیا کرو، اس سے خون رک جائے گا۔ اس (حمنہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: یہ اس سے زیادہ ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کپڑا باندھ لیا کرو۔ میں نے کہا: یہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے، میری تو دھار بہتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں دو باتیں بتاتا ہوں ان میں سے جو بھی اختیار کر لو کافی ہے۔ اگر دونوں کی ہمت ہو تو یہ تمہیں معلوم ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: یہ دراصل شیطانی کچوکا ہے۔ پس تم (ہر مہینے) اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات دن حیض کے شمار کرو، پھر غسل کر لو حتیٰ کہ جب تم اپنے آپ کو پاک صاف سمجھو تو تئیس یا چوبیس دن رات نماز پڑھتی رہو اور روزے رکھو۔ تمہیں یہ کافی ہے اور ہر مہینے ویسے ہی کیا کرو جیسے کہ عام عورتیں اپنے حیض اور طہر کے دنوں میں کرتی ہیں۔ (دوسری صورت) اور اگر ہمت ہو تو ظہر کو مؤخر اور عصر کو جلدی کر کے ان دونوں کو جمع کر لو اور ان کے لیے ایک غسل کرو۔ پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو جلدی کرتے ہوئے ایک غسل کر لو اور ان نمازوں کو جمع کر کے پڑھ لو۔ اور فجر کی نماز کے لیے (بھی) غسل کر لو۔ اگر تم یہ کر سکتی ہو تو کر لیا کرو اور روزے بھی رکھتی جاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور یہ (دوسری) صورت ان دونوں میں سے میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس روایت کو عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے نقل کیا اور کہا: حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ صورت میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس قول کو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں بتایا، بلکہ حمنہ رضی اللہ عنہا کا قول کہا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: عمرو بن ثابت رافضی تھا اور یہ قول یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے ذکر کیا۔ (لیکن وہ حدیث میں صدوق (سچا) تھا۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے سنا، کہتے تھے کہ ابن عقیل کی حدیث کے بارے میں میرے دل میں کچھ (تردد) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 95 (128)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 115 (622، 627) (تحفة الأشراف: 15821)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/439، سنن الدارمی/الطھارة 83 (812) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ثابت بن مقدام کا تذکرہ مؤلف نے برسبیل تذکرہ عمرو بن ثابت بن ابی المقدام کی وجہ سے کر دیا ہے، ورنہ یہاں کسی سند میں ان کا نام نہیں آیا ہے، عمرو بن ثابت کو حافظ ابن حجر نے ضعیف قرار دیا ہے۔
۲؎: لیکن بتصریح ترمذی امام بخاری نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے حتی کہ امام احمد نے بھی اس کی تحسین کی ہے، حافظ ابن القیم نے اس پر مفصل بحث کی ہے، اس کی تائید حدیث نمبر: (۳۹۴) سے بھی ہو رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن لم يجعله من قول النبي صلى الله عليه وسلم جعله كلام حمنة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (128)،ابن ماجه (622،627)
ابن عقيل: ضعيف (تقدم: 128)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 295
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ، اسْتُحِيضَتْ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ، أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ، وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً اسْتُحِيضَتْ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا بِمَعْنَاهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوا، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، جب ان پر یہ شاق گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک غسل سے ظہر اور عصر پڑھنے، اور ایک غسل سے مغرب و عشاء پڑھنے اور ایک غسل سے فجر پڑھنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے ابن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت کو استحاضہ ہوا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے اسے حکم دیا، پھر اس راوی نے اوپر والی روایت کے ہم معنی روایت کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 295]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو استحاضے کا عارضہ ہو گیا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ہر نماز کے لیے غسل کیا کریں، مگر جب وہ اس سے مشقت میں پڑ گئیں تو انہیں حکم دیا: ظہر و عصر کی نماز ایک غسل کے ساتھ جمع کریں اور مغرب و عشاء کو ایک غسل کے ساتھ اور صبح کے لیے ایک غسل کیا کریں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس روایت کو ابن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک عورت کو استحاضہ ہو گیا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17522)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/119،139) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے لیکن متن دوسری روایتوں سے ثابت ہے)۔
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق (تقدم: 47) وسفيان بن عيينة (طبقات المدلسين: 52/ 2 وھو من الثالثة) مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 25

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 296
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ، لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ فَإِذَا رَأَتْ صُفْرَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَتَوَضَّأْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ، أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ.
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے اتنے دنوں سے (خون) استحاضہ آ رہا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھ سکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، وہ ایک لگن میں بیٹھ جائیں، جب پانی پر زردی دیکھیں تو ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل، اور فجر کے لیے ایک غسل کریں، اور اس کے درمیان میں وضو کرتی رہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا دشوار ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابراہیم نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور یہی قول ابراہیم نخعی اور عبداللہ بن شداد کا بھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 296]
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو اتنی مدت سے استحاضہ ہو رہا ہے، اور وہ نماز نہیں پڑھ سکی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ! یہ شیطانی اثر ہے، اسے چاہیے کہ ٹب میں بیٹھے، اگر پانی میں زردی غالب ہو تو چاہیے کہ ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے اور مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے اور فجر کے لیے ایک غسل کرے اور ان کے مابین وضو کرے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث کو مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ جب اس پر (ہر نماز کے لیے) غسل مشکل ہو گیا تو اسے حکم دیا کہ دو نمازوں کو جمع کر لیا کرے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور اسے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور ایسے ہی عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 15760) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري عنعن (تقدم: 145)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 25

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں