سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب ما يؤمر به من الوفاء بالنذر
باب: نذر پوری کرنے کی تاکید کا بیان۔
حدیث نمبر: 3315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهَا، نَحْوَهُ مُخْتَصَرٌ مِنْهُ شَيْءٌ، قَالَ: هَلْ بِهَا وَثَنٌ أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ؟، قَالَ: لَا، قُلْتُ: إِنَّ أُمِّي هَذِهِ عَلَيْهَا نَذْرٌ، وَمَشْيٌ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟، وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: أَنَقْضِيهِ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ.
میمونہ اپنے والد کردم بن سفیان سے اسی جیسی لیکن اس سے قدرے اختصار کے ساتھ روایت کرتی ہیں آپ نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت ہے یا جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہوتی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: یہ میری والدہ ہیں ان کے ذمہ نذر ہے، اور پیدل حج کرنا ہے، کیا میں اسے ان کی طرف سے پورا کر دوں؟ اور ابن بشار نے کبھی یوں کہا ہے: کیا ہم ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں؟ (جمع کے صیغے کے ساتھ) آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3315]
جناب عمرو بن شعیب نے سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے اپنے والد سے اسی کی مانند روایت کیا لیکن قدرے اختصار کے ساتھ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت تھا یا جاہلیت کا میلہ تھا؟“ انہوں نے کہا: ”کچھ بھی نہیں۔“ میں نے کہا: ”میری اس والدہ کے ذمے نذر ہے اور پیدل چلنا، کیا میں اسے اس کی طرف سے قضا ادا کروں؟“ (اور بالفاظ ابن بشار) ”کیا ہم اس کی طرف سے قضا ادا کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3314
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَارَّةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ، قَالَتْ:" خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حِجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُ النَّاسَ، يَقُولُونَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أُبِدُّهُ بَصَرِي، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ مَعَهُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ: الطَّبْطَبِيَّةَ، الطَّبْطَبِيَّةَ، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي، فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ، قَالَتْ: فَأَقَرَّ لَهُ، وَوَقَفَ، فَاسْتَمَعَ مِنْهُ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِي وَلَدٌ ذَكَرٌ، أَنْ أَنْحَرَ عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فِي عَقَبَةٍ مِنَ الثَّنَايَا عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ: خَمْسِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ بِهَا مِنَ الْأَوْثَانِ شَيْءٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَوْفِ بِمَا نَذَرْتَ بِهِ لِلَّهِ، قَالَتْ: فَجَمَعَهَا، فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا، فَانْفَلَتَتْ مِنْهَا شَاةٌ، فَطَلَبَهَا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي، فَظَفِرَهَا، فَذَبَحَهَا".
میمونہ بنت کردم کہتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے آپ پر اپنی نظریں گاڑ دیں، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلمین مکتب کے درہ کے طرح ایک درہ تھا، میں نے بدویوں اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا: شن شن (درے کی آواز جو تیزی سے مارتے اور گھماتے وقت نکلتی ہے) تو میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے اور (جا کر) آپ کے قدم پکڑ لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف و اقرار کیا، آپ کھڑے ہو گئے اور ان کی باتیں آپ نے توجہ سے سنیں، پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے یہاں لڑکا پیدا ہو گا تو میں بوانہ کی دشوار گزار پہاڑیوں میں بہت سی بکریوں کی قربانی کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے پچاس بکریاں کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت بھی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ کے لیے جو نذر مانی ہے اسے پوری کرو“ انہوں نے (بکریاں) اکٹھا کیں، اور انہیں ذبح کرنے لگے، ان میں سے ایک بکری بدک کر بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے اور کہہ رہے تھے اے اللہ! میری نذر پوری کر دے پھر وہ اسے پا گئے تو ذبح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3314]
سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہوئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے تشریف لے گئے تھے، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ میں نے لوگوں کو سنا، وہ کہتے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب نظر بھر کر دیکھتی رہی۔ پھر میرے ابا ان کے قریب ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک درہ تھا جیسے کہ مکتب کے معلم کے پاس ہوتا ہے۔ میں نے بدویوں کو اور لوگوں کو سنا جو کہہ رہے تھے: «الطَّبْطَبِيَّةُ، الطَّبْطَبِيَّةُ» (چلتے ہوئے پاؤں پڑنے کی آواز طب طب یا کوڑا مارنے کی آواز)۔ میرے ابا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پکڑ لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سنے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے ہاں لڑکے کی ولادت ہوئی تو میں بوانہ کے سرے پر گھاٹی میں کئی بکریاں ذبح کروں گا۔“ راوی کہتا ہے غالباً اس (میمونہ) نے پچاس کہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا وہاں کوئی بت تھا؟“ کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تو نے اللہ کے لیے نذر مانی ہے اسے پورا کر۔“ چنانچہ میرے ابا نے بکریوں کو جمع کیا اور انہیں ذبح کرنے لگے تو ان میں سے ایک بکری بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے نکلے اور کہتے جاتے تھے: ”اے اللہ! مجھ سے میری نذر پوری کرا دے۔“ چنانچہ انہوں نے اسے پا لیا اور پھر ذبح کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث (2103)، (تحفة الأشراف: 18091) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (2103)
و حديث الأصل (3315) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
ضعيف
انظر الحديث السابق (2103)
و حديث الأصل (3315) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120