🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب في تحريم الخمر
باب: شراب کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3671
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضَي اللهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ، فَقَرَأَ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، فَخَلَطَ فِيهَا، فَنَزَلَتْ: لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سورة النساء آية 43".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کر دیا تو آیت: «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو نازل ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3671]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے ان کی اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور انہیں شراب پلائی اور یہ واقعہ حرمت شراب سے پہلے کا ہے۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز مغرب میں امامت کرائی اور سورۃ الکافرون کی قراءت کرنے لگے مگر وہ ان پر غلط ہو گئی۔ چنانچہ یہ حکم نازل ہوا: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ [سورة النساء: 43] نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ، حتیٰ کہ جاننے لگو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 12 (3026)، (تحفة الأشراف: 10175) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3670
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، قَالَ عُمَرُ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً، فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ سورة البقرة آية 219، قَالَ: فَدُعِيَ عُمَرُ، فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً، فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى سورة النساء آية 43، فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ يُنَادِي: أَلَا لَا يَقْرَبَنَّ الصَّلَاةَ سَكْرَانُ، فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 91، قَالَ عُمَرُ انْتَهَيْنَا".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم فرما جس سے تشفی ہو جائے تو سورۃ البقرہ کی یہ آیت اتری: «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير» یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں (سورة البقرہ: ۲۱۹)۔ راوی کہتے ہیں: تو عمر رضی اللہ عنہ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں صاف اور واضح حکم نازل فرما جس سے تشفی ہو سکے، تو سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» یعنی اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ (سورة النساء: ۴۳) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا: خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں کوئی واضح اور صاف حکم نازل فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی: «فهل أنتم منتهون» یعنی کیا اب باز آ جاؤ گے (سورة المائدہ: ۹۱) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم باز آ گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3670]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! شراب کے بارے میں ہمیں صاف صاف حکم بیان فرما دے۔ چنانچہ سورہ البقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 219] (اے نبی!) لوگ آپ سے خمر (شراب) اور جوئے کے متعلق دریافت کرتے ہیں، تو کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے (اور لوگوں کے لیے (کچھ) فائدہ بھی ہے، لیکن ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے)۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور انہیں یہ آیت سنائی گئی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! ہمیں خمر کے بارے میں صاف صاف حکم بیان فرما دے۔ چنانچہ سورہ النساء کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى﴾ [سورة النساء: 43] اے ایمان والو! تم اس وقت نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے میں ہو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی نماز کی اقامت کے وقت اعلان کیا کرتا تھا: خبردار! کوئی شخص نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا: اے اللہ! ہمیں شراب کے بارے میں صاف صاف حکم بیان فرما دے۔ چنانچہ سورہ المائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾ [سورة المائدة: 91] (یقیناً خمر حرام ہے اور شیطانی اعمال میں سے ہے) کیا تم ان سے باز آتے ہو؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم باز آ گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/تفسیر سورة المائدة 8 (3049)، سنن النسائی/الأشربة 1 (5542)، (تحفة الأشراف: 10614)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/53) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3049) نسائي (5542)
أبو إسحاق مدلس وعنعن وعمرو بن شرحبيل لم يسمع من عمر
والحديث السابق (الأصل : 3669) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَخَلِ وَالْهَرَمِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی اور بڑھاپے سے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3972]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دعا میں) فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْهَرَمِ» اے اللہ! میں بخیلی اور عاجز کر دینے والے بڑھاپے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 888)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/113، 117)، انظر حدیث رقم: (1540) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسی ضعیفی سے جس میں ہوش و حواس باقی نہ رہیں نہ عبادت کی طاقت رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2823) صحيح مسلم (2706)
وانظر الحديث السابق (1540) مطولًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں