سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب في الأوعية
باب: شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3701
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: اجْتَنِبُوا مَا أَسْكَرَ.
شریک سے اسی سند سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نشہ آور چیز سے بچو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3701]
جناب شریک بن عبداللہ رحمہ اللہ سے اپنی سند سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جو چیز نشہ دے اس سے اجتناب کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8895) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3700)
انظر الحديث السابق (3700)
حدیث نمبر: 3679
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا (یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3679]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور شے «خَمْرٌ» (شراب) ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے، اور جو شخص اس حالت پر مر گیا کہ وہ شراب پیتا تھا تو وہ آخرت میں نہیں پیے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 8 (2003) سنن الترمذی/الأشربة 1 (1861)، سنن النسائی/الأشربة 46 (5676، 5677)، (تحفة الأشراف: 7516)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 1 (5575)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 1 (3377)، مسند احمد (2/19، 22، 28، 35، 198، 123) سنن الدارمی/الأشربة 3 (2135) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدمست کر دینے والی اور نشہ لانے والی چیزوں کو شراب کہا جاتا ہے اور یہ حرام ہے، یہ نشہ آور شراب کھجور سے ہو یا منقی، شہد، گیہوں اور جوار باجرہ سے، یا کسی درخت کا نچوڑا ہوا عرق ہو جیسے تاڑی یا کوئی گھاس ہو جیسے بھانگ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2003)
حدیث نمبر: 3681
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3681]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأشربة 3 (1865)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 10 (3393)، (تحفة الأشراف: 3014)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/343) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3645)
أخرجه الترمذي (1865 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3393 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3645)
أخرجه الترمذي (1865 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3393 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3685
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" نَهَى عَنِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْسِرِ، وَالْكُوبَةِ، وَالْغُبَيْرَاءِ، وَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ابْنُ سَلَامٍ أَبُو عُبَيْدٍ: الْغُبَيْرَاءُ: السُّكْرُكَةُ تُعْمَلُ مِنَ الذُّرَةِ، شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ (چوسر یا ڈھولک) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3685]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوئے، سارنگی اور «الْغُبَيْرَاءُ» ”غبیراء“ سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن سلام ابو عبید نے کہا کہ: ” «الْغُبَيْرَاءُ» ”غبیراء“ مکئی، جوار وغیرہ سے بنائی جانے والی شراب ہے جو اہل حبشہ بناتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8942)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/158، 171) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3652، 4504)
وللحديث شواھد انظر الحديث السابق (3696)
مشكوة المصابيح (3652، 4504)
وللحديث شواھد انظر الحديث السابق (3696)
حدیث نمبر: 3687
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، قَالَ مُوسَى، هُوَ عَمْرُو بْنُ سَلْمٍ الْأَنْصَارِيِّ: عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق ۱؎ بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3687]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس چیز کا بڑا پیالہ نشہ آور ہو تو اس کا ایک چلو بھی حرام ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأشربة 3 (1866)، (تحفة الأشراف: 17565)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/71، 72،131) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک پیمانہ ہے جو (۱۶) رطل کے برابر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3646)
أخرجه الترمذي (1866 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3646)
أخرجه الترمذي (1866 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ نَشْرَبُ؟، قَالَ: لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ، وَلَا فِي النَّقِيرِ، وَانْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الْأَسْقِيَةِ؟، قَالَ: فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُمْ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ: أَهْرِيقُوهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ أَوْ حُرِّمَ الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ، قَالَ: وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ عَنْ الْكُوبَةِ، قَالَ: الطَّبْلُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں پانی ڈال دیا کرو“ وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ”اسے بہا دو ۱؎“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے“ یا یوں کہا: ”شراب، جوا، اور ڈھول ۲؎ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3696]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وفدِ عبدالقیس کے لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کس میں پیئیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کدو کے برتن (تونبے)، تارکول لگے برتن اور لکڑی کے برتن میں مت پیو، اپنے مشکیزوں میں نبیذ بنایا کرو۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر مشکیزوں میں ہوتے ہوئے بھی اس میں شدت آ جائے تو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں مزید پانی ڈال لیا کرو۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا: ”اسے بہا ڈالو۔“ پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حرام فرمایا ہے“ یا کہا: ”حرام کی گئی ہے: «الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ» ”شراب، جوا اور کوبہ“۔“ اور فرمایا: ”ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔“ سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن بذیمہ رحمہ اللہ سے «الْكُوبَةُ» کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے کہا: ”اس سے مراد ڈھول ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:(3690)، (تحفة الأشراف: 6333)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/274، 289، 350) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کا استعمال صرف اس وقت تک درست ہے جب تک کہ اس میں تیزی سے جھاگ نہ اٹھنے لگے، اگر اس میں تیزی کے ساتھ جھاگ اٹھنے لگے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔
۲؎: حدیث میں «کوبۃ» کا لفظ ہے جس کے معنی: شطرنج، نرد، ڈگڈگی، بربط اور دوا وغیرہ پیسنے کے بٹہ کے آتے ہیں، یہاں پر علی بن بذیمۃ کی تفسیر کے مطابق «کوبۃ» کا ترجمہ ”ڈھول“ سے کیا گیا ہے۔
۲؎: حدیث میں «کوبۃ» کا لفظ ہے جس کے معنی: شطرنج، نرد، ڈگڈگی، بربط اور دوا وغیرہ پیسنے کے بٹہ کے آتے ہیں، یہاں پر علی بن بذیمۃ کی تفسیر کے مطابق «کوبۃ» کا ترجمہ ”ڈھول“ سے کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4503)
مشكوة المصابيح (4503)