سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب الرجل يدعى فيرى مكروها
باب: غیر شرعی امور کی موجودگی میں دعوت میں شرکت کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3755
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ:" أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعُوهُ، فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْهُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ، فَتَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَدَّكَ؟، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا".
سفینہ ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا بنایا (اور بھیج دیا) تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرما لیتے چنانچہ انہوں نے آپ کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا ہاتھ دروازے کے دونوں پٹ پر رکھا، تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر کے ایک کونے میں ایک منقش پردہ لگا ہوا ہے، (یہ دیکھ کر) آپ لوٹ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جا کر ملئیے اور دیکھئیے آپ کیوں لوٹے جا رہے ہیں؟ (علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا اور پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے یا کسی نبی کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی آرائش و زیبائش والے گھر میں داخل ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3755]
سیدنا سفینہ ابوعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا تیار کیا (اور ان کے گھر بھیج دیا)، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیں اور وہ بھی ہمارے ساتھ تناول فرما لیں (تو بہت خوب ہے)“ چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ دروازے کی چوکھٹ پر رکھا اور ایک منقش پردہ دیکھا جو گھر کی ایک جانب میں لگایا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو لیے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں اور معلوم کریں کہ کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس لوٹایا ہے“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کس وجہ سے واپس آ گئے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لائق نہیں یا کہا کہ نبی کو لائق نہیں کہ نقش و نگار والے گھر میں داخل ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأطعمة 56 (3360)، (تحفة الأشراف: 4483)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/220، 221، 222) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3360 وسنده حسن)
أخرجه ابن ماجه (3360 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4149
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا، فَلَمْ يَدْخُلْ، قَالَ: وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً، فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَلَمْ يَدْخُلْ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا، قَالَ: وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالرَّقْمَ، فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ، فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: قُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْمُرُنِي بِهِ، قَالَ: قُلْ لَهَا فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکتے دیکھا تو آپ اندر داخل نہیں ہوئے بہت کم ایسا ہو تاکہ آپ اندر جائیں اور پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نہ ملیں، اتنے میں علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غمگین دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تھے لیکن اندر نہیں آئے، علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اندر نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا سروکار، مجھے نقش و نگار سے کیا واسطہ؟“ یہ سن کر وہ واپس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور آپ نے جو فرمایا تھا انہیں بتایا، اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ اس پردے کے متعلق آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے کہو: اسے وہ بنی فلاں کو بھیج دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 4149]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، ان کے دروازے پر پردہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل نہ ہوئے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بہت کم ایسا ہوتا کہ آپ گھر جائیں (اور ان کے ہاں نہ جائیں) اور پھر ان کے ہاں سے ابتدا کرتے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ غمگین ہیں، پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے تھے مگر اندر داخل نہیں ہوئے۔“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! فاطمہ کو یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ اس کے ہاں گئے مگر اندر داخل نہیں ہوئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیا اور دنیا کیا؟ (مجھے دنیا سے کیا سروکار؟) میں کیا اور نقش دار پردے کیا؟ (میرا ان سے کیا واسطہ)“ چنانچہ وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتلائی، پس انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ میرے لیے کیا حکم ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کہو کہ اسے بنی فلاں کے پاس بھیج دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 4149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الھبة وفضلھا 27 (2613)، (تحفة الأشراف: 8252)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/21) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2613)
حدیث نمبر: 4150
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَكَانَ سِتْرًا مَوْشِيًّا.
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 4150]
ابن فضیل نے اپنے والد سے یہ حدیث بیان کی تو کہا: ”پردہ نقش دار تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 4150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8252) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2613)
حدیث نمبر: 4153
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تِمْثَالٌ، وَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ نَسْأَلْهَا عَنْ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْنَا، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا وَكَذَا فَهَلْ سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ بِمَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ وَكُنْتُ أَتَحَيَّنُ قُفُولَهُ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا كَانَ لَنَا فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْعَرَضِ، فَلَمَّا جَاءَ اسْتَقْبَلْتُهُ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَزَّكَ وَأَكْرَمَكَ، فَنَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَأَى النَّمَطَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا وَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَأَتَى النَّمَطَ حَتَّى هَتَكَهُ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا فِيمَا رَزَقَنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَاللَّبِنَ، قَالَتْ: فَقَطَعْتُهُ وَجَعَلْتُهُ وِسَادَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ".
ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمہ ہو“۔ زید بن خالد نے جو اس حدیث کے راوی ہیں سعید بن یسار سے کہا: میرے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلو ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں گے چنانچہ ہم گئے اور جا کر پوچھا: ام المؤمنین! ابوطلحہ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا ایسا فرمایا ہے تو کیا آپ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے جو کچھ آپ کو کرتے دیکھا ہے وہ میں تم سے بیان کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے، میں آپ کی واپسی کی منتظر تھی، میں نے ایک پردہ لیا جو میرے پاس تھا اور اسے دروازے کی پڑی لکڑی پر لٹکا دیا، پھر جب آئے تو میں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا: سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو عزت بخشی اور اپنے فضل و کرم سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر پر نظر ڈالی، تو آپ کی نگاہ پردے پر گئی تو آپ نے میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، میں نے آپ کے چہرہ پر ناگواری دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کے پاس آئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: ”اللہ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ ہم اس کی عطا کی ہوئی چیزوں میں سے پتھر اور اینٹ کو کپڑے پہنائیں“ پھر میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے، اور ان میں کھجور کی چھال کا بھراؤ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس کام پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 4153]
سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس گھر میں کتا ہو یا بت وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”چلو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں پوچھتے ہیں۔“ چنانچہ ہم چل دیے۔ ہم نے کہا: ”اے ام المؤمنین! ابوطلحہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں یوں بیان کرتے ہیں۔ کیا آپ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے سنا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔ لیکن میں تمہیں وہ بتاتی ہوں جو میں نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تشریف لے گئے۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کا انتظار تھا۔ میں نے اپنا ایک حاشیہ دار پردہ لیا اور اسے شہتیر کے ساتھ لٹکا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے استقبال کیا اور عرض کیا «اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“، ”حمد اس اللہ کی جس نے آپ کو عزت اور اکرام سے نوازا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر پر نظر ڈالی تو وہ حاشیہ دار پردہ دیکھا اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری محسوس ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حاشیہ دار پردے کی طرف آئے اور اسے اتار پھینکا، پھر فرمایا: ”بے شک اللہ نے ہمیں ہمارے رزق میں یہ حکم نہیں دیا کہ اینٹوں اور پتھروں کو کپڑے پہناتے پھریں۔“ کہتی ہیں: ”چنانچہ میں نے اس کو پھاڑ کر دو تکیے بنا لیے اور ان میں کھجور کی چھال بھر دی، تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ نہیں کہا۔““ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 4153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3225)، 17 (3322)، المغازي 12 (4002)، اللباس 88 (5949)، 92 (5958)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، سنن الترمذی/الأدب 44 (2804)، سنن النسائی/الصید والذبائح 11 (4287)، الزینة من المجتبی 57 (5349)، سنن ابن ماجہ/اللباس 44 (3649)، (تحفة الأشراف: 16089، 3779)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 3 (6)، مسند احمد (4/28، 29، 30) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2106)
حدیث نمبر: 4213
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهِ فَاطِمَةَ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةَ، فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ وَقَدْ عَلَّقَتْ مِسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَى بَابِهَا وَحَلَّتِ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ فَظَنَّتْ أَنَّ مَا مَنَعَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأَى، فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَفَكَّكَتِ الْقُلْبَيْنِ عَنِ الصَّبِيَّيْنِ وَقَطَّعَتْهُ بَيْنَهُمَا، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، فَأَخَذَهُ مِنْهُمَا، وَقَالَ: يَا ثَوْبَانُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى آلِ فُلَانٍ أَهْلِ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي أَكْرَهُ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا يَا ثَوْبَانُ اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ".
ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنے گھر والوں میں سب سے اخیر میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرتے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے تشریف لائے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دروازے پر ایک ٹاٹ یا پردہ لٹکا رکھا تھا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما دونوں کو چاندی کے دو کنگن پہنا رکھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو گھر میں داخل نہیں ہوئے تو وہ سمجھ گئیں کہ آپ کے اندر آنے سے یہی چیز مانع رہی ہے جو آپ نے دیکھا ہے، تو انہوں نے دروازے سے پردہ اتار دیا، پھر دونوں صاحبزادوں کے کنگن کو اتار لیا، اور کاٹ کر ان کے سامنے ڈال دیا، تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے ہوئے آئے، آپ نے ان سے کٹے ہوئے ٹکڑے لے کر فرمایا: ”ثوبان! اسے مدینہ میں فلاں گھر والوں کو جا کر دے آؤ“ پھر فرمایا: ”یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں مجھے یہ ناپسند ہے کہ یہ اپنے مزے دنیا ہی میں لوٹ لیں، اے ثوبان! فاطمہ کے لیے مونگوں والا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید کر لے آؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 4213]
سیدنا ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے روانہ ہوتے تو اپنے اہل کے جس فرد سے سب سے آخر میں ملاقات کرتے وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہوتیں۔ اور جب واپس آتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی کے ہاں تشریف لاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک غزوہ سے واپس آئے جبکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دروازے پر ٹاٹ یا پردہ لٹکایا ہوا تھا اور سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو چاندی کے کنگن پہنائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے مگر اندر نہیں گئے۔ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر نہ آنے کا سبب یہی ہے جو انہوں نے دیکھا ہے۔ چنانچہ انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور بچوں سے کنگن اتار لیے اور ان کے سامنے ہی انہیں توڑ ڈالا تو وہ روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے وہ لے لیے اور فرمایا: ”اے ثوبان! انہیں فلاں گھر والوں کے پاس لے جاؤ۔“ جو اہل مدینہ میں سے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ (فاطمہ، علی، حسن، حسین رضی اللہ عنہم) میرے اہل بیت ہیں، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ یہ اپنی نیکیوں کی جزا اسی دنیا میں کھا لیں۔ اے ثوبان! فاطمہ کے لیے عصب (منکوں) کا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لانا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 4213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2088)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/275، 279) (ضعیف الإسناد منکر)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان المنبھي وحميد الشامي مجهولان (تق: 2622،1567)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
إسناده ضعيف
سليمان المنبھي وحميد الشامي مجهولان (تق: 2622،1567)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150