سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب ما جاء في الأكل متكئا
باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا آكُلُ مُتَّكِئًا".
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا (کیونکہ یہ متکبرین کا طریقہ ہے)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 13 (5398)، سنن الترمذی/الأطعمة 28 (1830)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 6 (3262)، (تحفة الأشراف: 11801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/308، 309)، سنن الدارمی/الأطعمة 31 (2115) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3598)
حدیث نمبر: 3771
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ:" بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ".
مصعب بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کہیں) بھیجا جب میں لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ کو پایا کہ آپ کھجوریں کھا رہے ہیں، سرین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں پاؤں کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 24 (2044)، سنن الترمذی/الشمائل (142)، (تحفة الأشراف: 1591)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/180، 203)، دی/ الأطعمة 26 (2106) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح