سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب فيمن أعتق عبيدا له لم يبلغهم الثلث
باب: کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 3960
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الطَّحَّانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ.
ابوزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے ... آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3960]
جناب ابوزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے (اپنی موت کے وقت اپنے غلام آزاد کر دیے) مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اس کے دفن کیے جانے سے پہلے حاضر ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10695) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3390)
أبو زيد ھو عمرو بن أخطب رضي الله عنه
مشكوة المصابيح (3390)
أبو زيد ھو عمرو بن أخطب رضي الله عنه
حدیث نمبر: 3958
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْن،" أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلًا شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ، فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس اسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے: پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو (جن کے نام قرعہ میں نکلے) آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3958]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص نے اپنی وفات کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیے۔ اس شخص کے پاس ان کے سوا کوئی اور مال نہ تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی سخت بات فرمائی۔ پھر ان غلاموں کو بلوایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا۔ پھر ان میں قرعہ اندازی کر کے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 12 (1668)، سنن الترمذی/الأحکام 27 (1364)، سنن النسائی/الجنائز 65 (1960)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 20 (2345)، (تحفة الأشراف: 10880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/426، 431، 438، 440) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1668)