🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4176
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلًا وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ، فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ، فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَقَالَ: اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ، فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ رَدْعٌ فَسَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَقَالَ: اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ، فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ وَرَحَّبَ بِي، وَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ بِخَيْرٍ وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ وَلَا الْجُنُبَ، قَالَ: وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ يَتَوَضَّأَ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس رات کو آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اس میں زعفران کا خلوق (ایک مرکب خوشبو ہے) لگا دیا، پھر میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا تو آپ نے نہ میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جا کر اسے دھو ڈالو میں نے جا کر اسے دھو دیا، پھر آیا، اور میرے ہاتھ پر خلوق کا اثر (دھبہ) باقی رہ گیا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جا کر اسے دھو ڈالو میں گیا اور میں نے اسے دھویا، پھر آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور خوش آمدید کہا، اور فرمایا: فرشتے کافر کے جنازہ میں کوئی خیر لے کر نہیں آتے، اور نہ اس شخص کے جو زعفران ملے ہو، نہ جنبی کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ وہ سونے، کھانے، یا پینے کے وقت وضو کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4176]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں (سفر سے واپس آیا اور) رات کو اپنے گھر والوں کے ہاں پہنچا جبکہ میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے۔ تو انہوں نے مجھے زعفران لگا دی۔ میں صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا، بلکہ فرمایا: جاؤ اور اسے اپنے آپ سے دھو کر آؤ۔ چنانچہ میں گیا اور اسے دھو ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ اس کا کچھ اثر اور داغ مجھ پر باقی رہ گیا تھا۔ میں نے سلام پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب نہ دیا، نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جاؤ اور اسے اپنے آپ سے دھو کر آؤ۔ چنانچہ میں گیا اور اسے (دوبارہ) دھو کر حاضر خدمت ہوا اور سلام کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب دیا اور خوش آمدید بھی کہا اور فرمایا: بلاشبہ فرشتے کافر کے جنازے پر خیر کے ساتھ حاضر نہیں ہوتے اور نہ ایسے آدمی کے پاس آتے ہیں جس نے زعفران لگائی ہو اور نہ جنبی کے پاس آتے ہیں۔ البتہ جنبی کے لیے رخصت دی کہ جب وہ سونا یا کھانا پینا چاہے تو وضو کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10372)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/320) وأعاد المؤلف بعضہ فی السنة (4601) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (225) مختصرًا والحديث الآتي (4601)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4179
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَاهُمْ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ"، وَقَالَ عَنْ إِسْمَاعِيل، أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران لگانے سے منع فرمایا ہے۔ اور اسماعیل کی روایت میں «عن التزعفر للرجال» کے بجائے «أن يتزعفرالرجل» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4179]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ مرد زعفران لگائیں۔ اور اسماعیل (اسماعیل بن ابراہیم) سے یہ لفظ مروی ہے: «أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ» کہ مرد زعفران لگائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/اللباس 23 (2101)، سنن الترمذی/الأدب 51 (2815)، سنن النسائی/الحج 43 (2707)، الزینة من المجتبی 19 (5258)، (تحفة الأشراف: 1011، 992)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 33 (5846) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2101)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4182
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَ: لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذَا عَنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس پر (زعفران کی) زردی کا نشان تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت کم کسی ایسے شخص کا سامنا فرماتے جس کے چہرہ پہ کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند فرماتے، چنانچہ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش تم لوگ اسے حکم دیتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4182]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ اس پر زرد رنگ کا نشان تھا۔ اور بہت کم ایسے ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھیں اور براہ راست اسے کچھ کہیں۔ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اسے کہہ دو کہ اپنے پر سے اسے دھو ڈالے (تو بہت بہتر ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 867)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الشمائل 346)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (235)، وأعادہ المؤلف فی الأدب (4789)، مسند احمد (3/133، 154، 160) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (4789)
سلم بن قيس العلوي البصري : ضعيف (تق: 2473)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 149

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4601
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ، فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، وَقَالَ: اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے، تو انہوں نے میرے (ہاتھوں پر) زعفران مل دیا، صبح کو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا اور فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4601]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس پہنچا اور حالت یہ تھی کہ میرے ہاتھ پھٹ گئے تھے۔ تو انہوں نے مجھے (میرے ہاتھوں پر) زعفران لگا دیا۔ صبح کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا اور فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4176)، (تحفة الأشراف: 10372) (حسن)» ‏‏‏‏ (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عطاء خراسانی حافظہ کے کمزور راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديثان السابقان (225،4176)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں