سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب رجم ماعز بن مالك
باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4423
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، قَالَ: فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ، قَالَ سِمَاكٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ.
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث سنی ہے، اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کے اقرار کو دوبار رد کیا، سماک کہتے ہیں: میں نے اسے سعید بن جبیر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: ”آپ نے ان کے اقرار کو چار بار رد کیا تھا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4423]
شعبہ نے سماک سے روایت کیا، کہا کہ ”میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی، جبکہ پہلے والی حدیث زیادہ کامل ہے۔“ کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دوبارہ واپس کیا۔“ سماک کہتے ہیں کہ ”میں نے سعید بن جبیر کو یہ روایت بیان کی تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چار بار لوٹایا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2181) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1692)
حدیث نمبر: 4419
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجًا، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ، حَتَّى قَالَهَا أَرْبَعَ مِرَارٍ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَبِمَنْ؟ قَالَ: بِفُلَانَةٍ، فَقَالَ: هَلْ ضَاجَعْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ بَاشَرْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ جَامَعْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ، فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ وَقَدْ عَجَزَ أَصْحَابُهُ، فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ".
نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا، ان سے میرے والد نے کہا: جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کر لیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں عورت سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے؟“ ماعز نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس سے چمٹے تھے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم (سنگسار) کئے جانے کا حکم دیا، انہیں حرہ ۱؎ میں لے جایا گیا، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آ گئے، ان کے ساتھی تھک چکے تھے، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ان سے اسے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ۲؎، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4419]
جناب یزید بن نعیم بن ہزال اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ یتیم لڑکا تھا اور میرے والد کی سرپرستی میں تھا۔ پھر وہ قبیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ زنا کر بیٹھا۔ تو میرے والد نے اس سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور جو کچھ تم نے کیا ہے اس کی انہیں خبر دو، شاید وہ تیرے لیے استغفار کریں۔“ اور اس سے ان کا مقصد صرف یہی امید تھی کہ اسے کوئی راہ مل جائے۔ چنانچہ وہ حاضر ہوا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، لہٰذا اللہ کی کتاب کا حکم مجھ پر نافذ فرما دیجیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رخ پھیر لیا۔ اس نے پھر کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کا حکم نافذ فرما دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رخ پھیر لیا۔ تو اس نے (تیسری بار) پھر کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ مجھ پر اللہ کی کتاب کا حکم نافذ کر دیجیے۔“ حتیٰ کہ اس نے چار بار اس طرح کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے چار بار یہ بات کہی ہے، تو نے کس کے ساتھ کیا ہے؟“ کہا: ”فلاں لڑکی کے ساتھ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو اس کے ساتھ اکٹھے لیٹا ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو اس کے ساتھ چمٹا ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے اس کے ساتھ جماع کیا ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس کو حرہ کی طرف لے جایا گیا۔ جب اسے پتھر مارے گئے اور اس نے پتھروں کی چوٹ محسوس کی تو برداشت نہ کر پایا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو پا لیا، جبکہ دیگر ساتھی تھک گئے تھے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو اونٹ کا پایا نکال مارا اور اسے قتل کر دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ سب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہ دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 11652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/217) (صحیح)» آخری ٹکڑا: «لعله أن يتوب ...» صحیح نہیں ہے
وضاحت: ۱؎: مدینہ کے قریب ایک سیاہ پتھریلی جگہ ہے اس وقت شہر میں داخل ہے۔ ط ۲؎: کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اقرار سے مکر جاتا اور اس سزا سے بچ جاتا نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول «هلا تركتموه» اس بات کی دلیل ہے کہ اقرار کرنے والا اگر بھاگنے لگ جائے تو اسے مارنا بند کر دیا جائے گا، پھر اگر وہ بصراحت اپنے اقرار سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا ورنہ رجم کر دیا جائے گا یہی قول امام شافعی اور امام احمد کا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله لعله أن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3565، 3581)
انظر الحديث السابق (4377)
مشكوة المصابيح (3565، 3581)
انظر الحديث السابق (4377)