سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب في الرفق
باب: نرمی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4807
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَيْهِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رفیق ہے، رفق اور نرمی پسند کرتا ہے، اور اس پر وہ دیتا ہے، جو سختی پر نہیں دیتا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4807]
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عز و جل رفق اور نرمی سے موصوف ہے، اسے نرمی اور نرم خوئی پسند ہے۔ وہ اس پر وہ کچھ عنایت فرماتا ہے جو ترشی اور کرختگی پر نہیں دیتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/87) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے، اس کا معاملہ اپنے بندوں کے ساتھ لطف و مہربانی کا ہوتا ہے، وہ ان پر آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں اور انہیں ایسی چیزوں کا مکلف نہیں بناتا جوان کے بس میں نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شاھد عند مسلم (2593)
وله شاھد عند مسلم (2593)
حدیث نمبر: 2478
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عنها عَنِ الْبَدَاوَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِي:"يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ وَلَا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ".
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحراء و بیابان (میں زندگی گزارنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: ”عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اسے عیب دار کر دیتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 2478]
مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ بستی اور دیہات میں سکونت اختیار کرنا کیسا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی کبھار) ان ٹیلوں اور میدانوں کی طرف چلے جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار باہر جانے کا ارادہ فرمایا اور میری طرف صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹنی بھیجی (کہ سواری کے دوران میں اس پر کچھ سختی کرنی پڑی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! نرم خوئی سے کام لو، نرمی جس چیز میں بھی آ جائے وہ مزین ہو جاتی ہے اور جس سے نکال لی جائے، وہ عیب دار ہو جاتی ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 2478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، ویأتی ہذا الحدیث في الأدب (4808)، (تحفة الأشراف: 16150)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة 23 (2594)، مسند احمد (6/58، 222) (صحیح)» (اس میں سے صرف قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحیح ہے اور اتنا ہی صحیح مسلم میں ہے، ٹیلوں پرجانے کا واقعہ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کا تفرد ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون جملة التلاع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
شريك القاضي تابعه شعبة عند مسلم (2594)
شريك القاضي تابعه شعبة عند مسلم (2594)
حدیث نمبر: 4808
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْبَدَاوَةِ، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ، وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لِي: يَا عَائِشَةُ، ارْفُقِي، فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ"، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ فِي حَدِيثِهِ: مُحَرَّمَةٌ يَعْنِي: لَمْ تُرْكَبْ.
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دیہات (بادیہ) جانے، وہاں قیام کرنے کے بارے میں پوچھا (کہ کیسا ہے) آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان نالوں کی طرف دیہات (بادیہ) جایا کرتے تھے، ایک بار آپ نے باہر دیہات (بادیہ) جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھیجی، جس پر سواری نہیں کی گئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! نرمی کرو، اس لیے کہ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے، اسے زینت دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکل جاتی ہے، اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔ ابن الصباح اپنی حدیث میں کہتے ہیں: «محرمۃ» سے مراد وہ اونٹنی ہے جس پر سواری نہ کی گئی ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4808]
جناب مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ جنگل میں جانا کیسا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں کی طرف نکل جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ارادہ کیا کہ جنگل میں جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھیجی جس پر ابھی سواری نہیں ہوئی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! نرمی اختیار کیا کرو، بلاشبہ نرمی جس چیز میں بھی ہو وہ اسے مزین اور خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نکال لی جائے اسے بدصورت اور بھدا بنا دیتی ہے۔“ ابن صباح نے اپنی حدیث میں واضح کیا کہ «مُحَرَّمَةٌ» سے مراد ایسی اونٹنی ہے جس پر باقاعدہ سواری نہ ہوئی ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2478)، (تحفة الأشراف: 16150) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2478)
انظر الحديث السابق (2478)