سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
132. باب في من ضم يتيما
باب: یتیم کی پرورش کی ذمہ داری لینے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ، وَقَرَنَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ".
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح (قریب قریب) ہوں گے“ آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5150]
سیدنا سہل (سہل بن سعد انصاری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایسے ہوں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی درمیان والی اور شہادت والی انگلی کو ملا کر اشارہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 25 (5303)، الأدب 24 (6005)، سنن الترمذی/ البر والصلة 14 (1918)، تحفة الأشراف: 4710)، مسند احمد (5/333) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6005)
حدیث نمبر: 5149
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ كَهَاتَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوْمَأَ يَزِيدُ بِالْوُسْطَى وَالسَّبابةِ، امْرَأَةٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى يَتَامَاهَا حَتَّى بَانُوا أَوْ مَاتُوا".
عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور بیوہ عورت جس کے چہرے کی رنگت زیب و زینت سے محرومی کے باعث بدل گئی ہو دونوں قیامت کے دن اس طرح ہوں گے“ (یزید نے کلمے کی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا) ”عورت جو اپنے شوہر سے محروم ہو گئی ہو، منصب اور جمال والی ہو اور اپنے بچوں کی حفاظت و پرورش کی خاطر دوسری شادی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بڑے ہو جائیں یا وفات پا جائیں“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5149]
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی درمیان والی اور شہادت والی انگلی ملاتے ہوئے اشارہ کر کے دکھایا: ”(یعنی) وہ معزز اور حسین و جمیل عورت جو بیوہ ہو گئی اور (عزت و خوبصورتی کے باوجود) اس نے (نکاح نہ کیا بلکہ) اپنے یتیم بچوں کی خاطر (نکاح کرنے سے) رکی رہی حتیٰ کہ وہ بڑے ہو گئے یا وفات پا گئے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10911)، وقد أخرجہ: حم(6/26،29) (ضعیف)» (اس کے راوی نھاس ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
النھاس بن قھم : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
النھاس بن قھم : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179