سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب في الصلاة تقام ولم يأت الإمام ينتظرونه قعودا :
باب: اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں۔
حدیث نمبر: 543
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، عَنْ أَبِيهِ كَهْمَسٍ، قَالَ: قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ بِمِنًى وَالْإِمَامُ لَمْ يَخْرُجْ فَقَعَدَ بَعْضُنَا، فَقَالَ لِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ: مَا يُقْعِدُكَ؟ قُلْتُ: ابْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: هَذَا السُّمُودُ؟ فَقَالَ لِي الشَّيْخُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنَّا نَقُومُ فِي الصُّفُوفِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، قَالَ: وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَلُونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا يَصِلُ بِهَا صَفًّا".
کہمس کہتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے، امام ابھی نماز کے لیے نہیں نکلا تھا کہ ہم میں سے کچھ لوگ بیٹھ گئے، تو کوفہ کے ایک شیخ نے مجھ سے کہا: تمہیں کون سی چیز بٹھا رہی ہے؟ میں نے ان سے کہا: ابن بریدہ کہتے ہیں: یہی «سمود» ۱؎ ہے، یہ سن کر مذکورہ شیخ نے مجھ سے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے تکبیر کہنے سے پہلے صفوں میں دیر تک کھڑے رہتے تھے ۲؎۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں، جو پہلی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور صف میں شامل ہونے کے لیے جو قدم اٹھایا جائے اس سے بہتر اللہ کے نزدیک کوئی قدم نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 543]
کہمس کہتے ہیں کہ وادی منٰی میں ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور امام نہیں پہنچا تھا، تو ہم میں سے کچھ بیٹھ گئے۔ مجھ سے کوفہ کے ایک شخص نے کہا: ”تم کیوں بیٹھ گئے ہو؟“ میں نے کہا: ”ابن بریدہ کہتے ہیں کہ یہ کیفیت (کھڑے منہ اٹھائے دیکھنا) «سمود» ہے۔ (اور یہ کوئی اچھی بات نہیں)“ تو اس شیخ نے مجھ سے کہا: ”مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تکبیر تحریمہ کہے جانے سے پہلے لمبی دیر تک کھڑے رہا کرتے تھے۔“ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ پہلی صفوں سے ملے ہوئے ہوتے ہیں، اللہ عزوجل ان پر رحمت نازل کرتا اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور اللہ کے ہاں اس قدم سے بڑھ کر اور کوئی قدم محبوب نہیں جس سے وہ چل کر آتا اور صف کو ملاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود،(تحفة الأشراف: 1777) (ضعیف)» (اس کی سند میں شیخ من أہل الکوفة مبہم راوی ہے)
وضاحت: ۱؎: امام کے انتظار میں کھڑے رہنے کو سمود کہتے ہیں جو منع ہے، ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سمود کو مکروہ سمجھتے تھے۔
۲؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس کو کسی صحیح حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
۲؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس کو کسی صحیح حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شيخ من أھل الكوفة لم أعرفه
وحديث (664،الأصل) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
إسناده ضعيف
شيخ من أھل الكوفة لم أعرفه
وحديث (664،الأصل) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
حدیث نمبر: 676
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں طرف کے لوگوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 676]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں اطراف والوں پر اپنی رحمت (خاص) نازل فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 55 (1005)، (تحفة الأشراف: 16366)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/67، 89، 160)، (حسن) بلفظ: ’’على الذين يصلون الصفوف‘‘۔»
وضاحت: مسلمان کو فضیلت والے مقام کی طرف سبقت کرنا اور اس کا حریص ہونا چاہیے تاکہ خصوصی رحمتوں اور فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بن سکے۔ خیال رہے کہ امام کی بائیں جانب کو بھی نہیں بھول جانا چاہیے تاکہ صفوں کی برابری قائم رہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن بلفظ على الذين يصلون الصفوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ماجه (1005)
سفيان الثوري عنعن
و روي ابن خزيمة (1550) بلفظ : ((إن اللّٰه و ملائكته يصلون علي الذين يصلون الصفوف)) و سنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
إسناده ضعيف
ماجه (1005)
سفيان الثوري عنعن
و روي ابن خزيمة (1550) بلفظ : ((إن اللّٰه و ملائكته يصلون علي الذين يصلون الصفوف)) و سنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37