🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب في لتشديد في ترك الجماعة
باب: جماعت چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 550
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" حَافِظُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ بَيِّنُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ، وَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَلَهُ مَسْجِدٌ فِي بَيْتِهِ، وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَفَرْتُمْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تم لوگ ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جہاں ان کی اذان دی جائے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے اور راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ نماز باجماعت سے وہی غیر حاضر رہتا تھا جو کھلا ہوا منافق ہوتا تھا، اور ہم یہ بھی دیکھتے تھے کہ آدمی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا، یہاں تک کہ اس آدمی کو صف میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا تھا، تم میں سے ایسا کوئی شخص نہیں ہے، جس کی مسجد اس کے گھر میں نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہے اور مسجدوں میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا، تو تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا اور اگر تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا تو کافروں جیسا کام کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 550]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان پانچوں نمازوں کی حفاظت اور پابندی اختیار کرو جہاں کہیں ان کے لیے اذان کہی جائے، کیونکہ نمازوں کی (باجماعت) پابندی سنن ہدی میں سے ہے (یعنی حق و ہدایت کی راہ ہے)۔ اور اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کی سنتیں مشروع کی ہیں۔ اور میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے کہ واضح اور کھلے منافق کے علاوہ کوئی بھی جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا۔ اور میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے کہ ایک آدمی کو دو دو افراد سہارا دے کر لاتے تھے اور اسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا اور تم ہو کہ ہر ایک نے اپنے گھر ہی میں مسجد بنا رکھی ہے۔ اگر تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھنے لگو اور مسجدوں کو چھوڑ دو، تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ بیٹھو گے۔ اور اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیا تو کافر ہو جاؤ گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 44 (654) بلفظ: ’’ضللتم‘‘، سنن النسائی/الإمامة 50 (850)، (تحفة الأشراف: 9502)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 14 (781)، مسند احمد (1/382، 414) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م بلفظ لضللتم وهو المحفوظ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (654)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 551
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ، قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ، لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عَنْ مَغْرَاءَ أَبُو إِسْحَاقَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اذان کی آواز سنے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے اسے کوئی عذر مانع نہ ہو (لوگوں نے عرض کیا: عذر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: خوف یا بیماری) تو اس کی نماز جو اس نے پڑھی قبول نہ ہو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 551]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کو سنا اور اس کی اتباع کرنے میں (یعنی مسجد میں آنے سے) اسے کوئی عذر مانع نہ ہوا۔ سننے والوں نے پوچھا: عذر سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: کوئی خوف یا بیماری۔ تو ایسے آدمی کی نماز جو وہ پڑھے گا مقبول نہ ہو گی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: مغراء سے ابواسحاق نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 17 (793)، (تحفة الأشراف: 5560) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن «ما العذر» والا جملہ صحیح نہیں ہے، نیز صحیح لفظ «لا صلاة له» ہے) (ابن ماجہ وغیرہ کی سند سے یہ حدیث صحیح ہے ورنہ مؤلف کی سند میں ابوجناب کلبی اور مغراء ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة العذر وبلفظ ولا صلاة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو جناب يحيي بن أبي حية الكلبي ضعيف مدلس راجع تحفة الأقوياء في تحقيق كتاب الضعفاء (404)
وحديث ابن ماجه (793) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں