سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
91. باب الصلاة في النعل
باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفَتْحِ وَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اپنے دونوں جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 648]
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ والے دن دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے آپ کی بائیں جانب رکھے ہوئے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، والقبلة 25 (777)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 205 (1431)، (تحفة الأشراف: 5314)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/411) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 650
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ؟ قَالُوا: رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السلام أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ: أَذًى، وَقَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ، فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے؟“، ان لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے“۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے: «قذرا» کہا، یا: «أذى» کہا، اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 650]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوران نماز میں) اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ لیے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟“ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتے اتارے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کے جوتے میں گندگی لگی ہے۔“ (لفظ «قَذَرٌ» تھا یا «أَذًى») آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اپنے جوتوں کو بغور دیکھ لیا کرے۔ اگر ان میں کوئی گندگی یا نجاست نظر آئے تو اسے پونچھ ڈالے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/20، 92)، سنن الدارمی/الصلاة 103 (1418)، (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (766)
مشكوة المصابيح (766)