🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 670
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ أَخَذَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ: اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ أَخَذَهُ بِيَسَارِهِ، فَقَالَ: اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ.
اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑتے، پھر (نمازیوں کی طرف) متوجہ ہوتے، اور فرماتے: سیدھے ہو جاؤ، اپنی صفیں درست کر لو، پھر اسے بائیں ہاتھ سے پکڑتے اور فرماتے: سیدھے ہو جاؤ اور اپنی صفیں درست کر لو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 670]
جناب محمد بن مسلم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مذکورہ حدیث بیان کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے، پھر (دائیں صف کی طرف) متوجہ ہو کر کہتے سیدھے کھڑے ہو جاؤ، اپنی صفوں کو برابر کر لو۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑتے (اور بائیں جانب متوجہ ہوتے) اور فرماتے سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور اپنی صفوں کو برابر کر لو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1474) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سے پہلی والی حدیث ملاحظہ فرمائیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (669)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّينَا فِي الصُّفُوفِ كَمَا يُقَوَّمُ الْقِدْحُ، حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنْ قَدْ أَخَذْنَا ذَلِكَ عَنْهُ وَفَقِهْنَا أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ بِوَجْهِهِ إِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِهِ، فَقَالَ:" لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست کیا کرتے تھے، جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں (اور یہ سلسلہ برابر جاری رہا) یہاں تک کہ آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے اسے آپ سے خوب اچھی طرح سیکھ اور سمجھ لیا ہے، تو ایک روز آپ متوجہ ہوئے، اتنے میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 663]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صفوں میں ایسے برابر اور سیدھا کیا کرتے تھے جیسے کہ تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ ہم نے آپ سے یہ درس لے لیا اور اسے خوب سمجھ لیا ہے، تو ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قسم اللہ کی!) تم لوگ یا تو صفوں کو برابر کرو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے مابین مخالفت پیدا کر دے گا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 28 (436)، سنن الترمذی/الصلاة 55 (227)، سنن النسائی/الإمامة 25 (811)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 50 (992)، (تحفة الأشراف: 11620)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/270، 271، 272، 276، 277) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (436)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں