سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب الماء لا يجنب
باب: غسل جنابت کا بچا ہوا پانی نجس نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 68
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهَا أَوْ يَغْتَسِلَ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ایک لگن سے (چلو سے پانی لے لے کر) غسل جنابت کیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن میں بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنے کے لیے تشریف لائے تو ام المؤمنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی (اور یہ غسل جنابت کا بچا ہوا پانی ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی ناپاک نہیں ہوتا“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 68]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اہلیہ محترمہ رضی اللہ عنہا نے لگن میں سے غسل کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وضو یا غسل کرنا چاہتے تھے، تو اہلیہ محترمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”اے اللہ کے رسول! میں جنابت سے تھی (اور میں نے اسی پانی سے غسل کیا ہے)۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تو کیا ہوا؟) پانی جنبی نہیں ہوتا (پاک ہی رہتا ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 68]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 48 (65)، سنن النسائی/المیاہ (326) بلفظ: ’’لا ینجسہ شيء‘‘، سنن ابن ماجہ/الطھارة 33 (370، 371)، (تحفة الأشراف: 6103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/235، 248، 308، 337)، سنن الدارمی/الطھارة 57 (761) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی غسل جنابت کے بعد بچا ہوا پانی پاک ہوتا ہے اور اس میں چھینٹیں پڑنے سے اس کی پاکی متأثر نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (65)،نسائي (326)،ابن ماجه (370)
سلسلة سماك عن عكرمة سلسلة ضعيفة،انظر نيل المقصود في تعليق سنن ابي داود (ق 37/1) وسير أعلام النبلاء (248/5)
وانظر الحديث الآتي (2238)
وحديث مسلم (323) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
إسناده ضعيف
ترمذي (65)،نسائي (326)،ابن ماجه (370)
سلسلة سماك عن عكرمة سلسلة ضعيفة،انظر نيل المقصود في تعليق سنن ابي داود (ق 37/1) وسير أعلام النبلاء (248/5)
وانظر الحديث الآتي (2238)
وحديث مسلم (323) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَقَفَهُ عَنْ عَاصِمٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی جب دو قلہ کے برابر ہو جائے تو وہ ناپاک نہیں ہو گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے عاصم سے اس روایت کو موقوفاً بیان کیا ہے (اوپر سند میں حماد بن سلمہ ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 65]
جناب عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو ناپاک نہیں ہوتا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن زید نے اسے عاصم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 65]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7305) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (477)
مشكوة المصابيح (477)
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْحِيَضُ وَلَحْمُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر لیا کریں، جبکہ یہ کنواں ایسا ہے کہ اس میں حیض کے چیتھڑے، کتوں کا گوشت اور گندگی ڈال دی جاتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں، بعض نے راوی کا نام عبداللہ بن رافع کی بجائے عبدالرحمٰن بن رافع بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 49 (66)، سنن النسائی/المیاہ 1 (327، 328)، (تحفة الأشراف: 4144)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/15، 16، 31، 86) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (478)
مشكوة المصابيح (478)
حدیث نمبر: 67
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَالُ لَهُ: إِنَّهُ يُسْتَقَى لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْمَحَايِضُ وَعَذِرُ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِهَا. قَالَ: أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيهَا الْمَاءُ إِلَى الْعَانَةِ، قُلْتُ: فَإِذَا نَقَصَ؟ قَالَ: دُونَ الْعَوْرَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدَّرْتُ أَنَا بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَرَعْتُهُ فَإِذَا عَرْضُهَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ، وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتَحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ، فَأَدْخَلَنِي إِلَيْهِ، هَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُهَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: لَا. وَرَأَيْتُ فِيهَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت یہ فرماتے سنا جب کہ آپ سے پوچھا جا رہا تھا کہ بئر بضاعہ ۱؎ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لایا جاتا ہے، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور لوگوں کے پاخانے ڈالے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے بئر بضاعہ کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے جواب دیا: پانی جب زیادہ ہوتا ہے تو زیر ناف تک رہتا ہے، میں نے پوچھا: اور جب کم ہوتا ہے؟ تو انہوں نے جواباً کہا: تو ستر یعنی گھٹنے سے نیچے رہتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے بئر بضاعہ کو اپنی چادر سے ناپا، چادر کو اس پر پھیلا دیا، پھر اسے اپنے ہاتھ سے ناپا، تو اس کا عرض (۶) ہاتھ نکلا، میں نے باغ والے سے پوچھا، جس نے باغ کا دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کیا: کیا بئر بضاعہ کی بناوٹ و شکل میں پہلے کی نسبت کچھ تبدیلی ہوئی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 67]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جا رہا تھا کہ آپ کے لیے جو پانی لایا جاتا ہے وہ بضاعہ کے کنویں کا ہوتا ہے، حالانکہ اس میں کتوں کا گوشت، حیض کے چیتھڑے اور انسانوں کی غلاظت تک ڈال دی جاتی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے اسے کوئی شے ناپاک نہیں کرتی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے اس کنویں کے محافظ سے اس کی گہرائی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: پانی زیادہ سے زیادہ پیڑو (ناف کے نچلے حصے) تک آتا ہے۔ میں نے کہا: اور جب کم ہو تو؟ اس نے کہا: شرمگاہ سے کم (یعنی رانوں تک)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے ذاتی طور پر خود اپنی چادر اس کنویں پر پھیلا کر اسے ناپا تو اس کا قطر چھ ہاتھ تھا اور میں نے اس کے محافظ سے پوچھا، جس نے میرے لیے باغ کا دروازہ کھولا اور کنواں دکھلایا تھا، کہ آیا اس کی بنا میں دورِ نبوی سے کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟ تو اس نے کہا: نہیں، اور میں نے اس کا پانی دیکھا تو اس کا رنگ بدلا ہوا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 67]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4144) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بئر بضاعہ: مدینہ نبویہ میں مسجد نبوی سے جنوب مغرب میں واقع کنواں تھا، اس وقت یہ جگہ مسجد نبوی کی توسیع جدید میں مسجد کے اندر داخل ہو چکی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
محمد بن اسحاق بن يسار صرح بالسماع عند احمد (3/ 86)
محمد بن اسحاق بن يسار صرح بالسماع عند احمد (3/ 86)