🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
123. باب ما يستفتح به الصلاة من الدعاء
باب: نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 764
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً، قَالَ عَمْرٌو: لَا أَدْرِي أَيَّ صَلَاةٍ هِيَ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثًا، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ، قَالَ: نَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا (عمرو کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی نماز تھی؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار فرمایا: «الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، اور فرمایا: «أعوذ بالله من الشيطان من نفخه ونفثه وهمزه» میں شیطان کے کبر و غرور، اس کے اشعار و جادو بیانی اور اس کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: اس کا «نفث» شعر ہے، اس کا «نفخ» کبر ہے اور اس کا «همز» جنون یا موت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 764]
جناب ابن جبیر بن مطعم اپنے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نماز پڑھتے دیکھا، عمرو نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کون سی نماز تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار کہا: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» اللہ سب سے بڑا اور بہت بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا اور بہت بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اور بہت بڑا ہے اور حمد اللہ ہی کی ہے، بہت زیادہ، حمد اللہ ہی کی ہے اور بہت زیادہ، حمد اللہ ہی کی ہے بہت زیادہ۔ اور وہ سب عیوب سے پاک ہے۔ صبح و شام اس کی یہ ثناء ہے۔ (اور بعد میں یہ کلمات بھی پڑھتے) «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ: مِنْ نَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ، وَهَمْزِهِ» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان کے دم، پھونک اور جنون سے۔ (جناب عمرو بن مرہ نے ان الفاظ کی شرح میں) کہا کہ «نَفْث» سے مراد لغو قسم کی شعر و شاعری ہے، «نَفْخ» کا مفہوم تکبر کی انگیخت ہے اور «هَمْز» کا معنی جنون ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 2 (807)، (تحفة الأشراف: 3199)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/80، 83، 85، 4/80، 82، 85) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے ایک راوی عاصم کے نام میں بہت اختلاف ہے، تو گویا وہ مجہول ہوئے، ابن حجر نے ان کو لین الحدیث کہا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (817)
أخرجه ابن ماجه (807 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ:" كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا آنِفًا؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ".
رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر «سمع الله لمن حمده» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی نے «اللهم ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ابھی ابھی یہ کلمات کس شخص نے کہے ہیں؟، اس آدمی نے کہا: میں نے، اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا جو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون پہلے ان کلمات کو لکھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 770]
رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی نے کہا: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» اے اللہ! اے ہمارے رب! اور تیری ہی تعریف ہے، بہت ساری حمد، پاکیزہ اور بابرکت۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ابھی ابھی کس نے یہ کلمات کہے ہیں؟ اس آدمی نے کہا: میں نے، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تحقیق میں نے تیس سے کچھ اوپر فرشتوں کو دیکھا ہے جو ان کلمات کی طرف سبقت کر رہے تھے کہ کون ان کو پہلے لکھتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 126 (799)، سنن النسائی/الافتتاح 36 (932)، التطبیق 22 (1063)، (تحفة الأشراف: 3605)، موطا امام مالک/القرآن 7 (25)، مسند احمد (4/340)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 184 (404) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (799)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 773
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نحوه، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رِفَاعَةُ لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ رِفَاعَةُ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَقَالَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ؟" ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَتَمَّ مِنْهُ.
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، مجھ کو (رفاعہ) کو چھینک آئی۔ اور قتیبہ نے اپنی روایت میں «رفاعة» کا لفظ ذکر نہیں کیا - تو میں نے یہ دعا پڑھی: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، ایسی تعریف جو پاکیزہ، بابرکت اور پائیدار ہو، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مڑے اور پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے ہم مثل اور اس سے زیادہ کامل روایت ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 773]
جناب معاذ بن رفاعہ بن رافع اپنے والد (رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو رفاعہ کو چھینک آ گئی (استاد) قتیبہ نے رفاعہ کا نام نہیں لیا، تو میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَىٰ» تعریف اللہ کی ہے، بہت زیادہ تعریف، پاکیزہ اور بابرکت (یعنی باقی رہنے والی) جیسے کہ ہمارا رب پسند فرمائے اور جس پر راضی اور خوش ہو۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ پھر مالک (رحمہ اللہ) کی حدیث کی مانند بیان کیا اور اس سے کامل تر بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 180 (404)، سنن النسائی/الافتتاح 36 (932)، (تحفة الأشراف: 980، 3606) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (992)
أخرجه الترمذي (404 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 774
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" عَطَسَ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَ مَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ الشَّابُّ، ثُمَّ قَالَ: مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا قُلْتُهَا لَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: مَا تَنَاهَتْ دُونَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حالت نماز میں ایک انصاری نوجوان کو چھینک آ گئی، تو اس نے کہا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه حتى يرضى ربنا وبعد ما يرضى من أمر الدنيا والآخرة» اللہ کے لیے بہت بہت تعریف ہے، ایسی تعریف جو پاکیزہ اور بابرکت ہو، یہاں تک کہ ہمارا رب خوش و راضی ہو جائے اور دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اس کے خوش ہو جانے کے بعد بھی یہ حمد و ثنا برقرار رہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ کلمات کس نے کہے؟، عامر بن ربیعہ کہتے ہیں: نوجوان انصاری خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے؟ جس نے بھی کہا ہے اس نے برا نہیں کہا، تب اس نوجوان نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کلمات میں نے کہے ہیں، میری نیت خیر ہی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات عرش الٰہی کے نیچے نہیں رکے (بلکہ رحمن کے پاس پہنچ گئے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 774]
جناب عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں ایک انصاری جوان نے چھینک ماری، تو اس نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَمَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» تعریف اللہ کی، بہت ساری تعریف، پاکیزہ، بابرکت، حتیٰ کہ ہمارا رب راضی ہو جائے اور دنیا و آخرت کے معاملے کے بعد جس پر وہ راضی ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: کس نے کلمات کہے ہیں؟ تو وہ نوجوان خاموش رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے کلمات کہے ہیں؟ اس نے کوئی حرج کی بات نہیں کہی۔ تب وہ بولا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کہے ہیں اور میں نے بھلائی ہی کا ارادہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات عرشِ رحمٰن سے ورے کہیں نہیں رکے (بلکہ براہِ راست سیدھے عرش تک جا پہنچے ہیں)، بلند ہے ذکر اس کا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5038) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے دو راوی شریک اور عاصم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيد اللّٰه ضعيف(تقريب التهذيب: 3065) قال النووي : و قد ضعفه الجمهور (خلاصة الأحكام 87/1 ح 98) و قال العيني : و قد ضعفه الجمهور(عمدة القاري 13/11) و قال الھيثمي:وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 150/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں