سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ : تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ
باب: حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید۔
حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ الْأَنْصَارِيَّ النَّقِيبَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزَا مَعَ مُعَاوِيَةَ أَرْضَ الرُّومِ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ وَهُمْ يَتَبَايَعُونَ كِسَرَ الذَّهَبِ بِالدَّنَانِيرِ، وَكِسَرَ الْفِضَّةِ بِالدَّرَاهِمِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ الرِّبَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَبْتَاعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ لَا زِيَادَةَ بَيْنَهُمَا وَلَا نَظِرَةَ" فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ لَا أَرَى الرِّبَا فِي هَذَا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ نَظِرَةٍ، فَقَالَ عُبَادَةُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُحَدِّثُنِي عَنْ رَأْيِكَ، لَئِنْ أَخْرَجَنِي اللَّهُ لَا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ لَكَ عَلَيَّ فِيهَا إِمْرَةٌ، فَلَمَّا قَفَلَ لَحِقَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا أَقْدَمَكَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ؟ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، وَمَا قَالَ مِنْ مُسَاكَنَتِهِ، فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِلَى أَرْضِكَ، فَقَبَحَ اللَّهُ أَرْضًا لَسْتَ فِيهَا، وَأَمْثَالُكَ وَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ: لَا إِمْرَةَ لَكَ عَلَيْهِ، وَاحْمِلِ النَّاسَ عَلَى مَا قَالَ فَإِنَّهُ هُوَ الْأَمْرُ.
قبیصہ سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ نے (جو کہ عقبہ کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والے صحابی ہیں) معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں جہاد کیا، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کو دینار (اشرفی) کے بدلے اور چاندی کے ٹکڑوں کو درہم کے بدلے بیچتے ہیں، تو کہا: لوگو! تم سود کھاتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”تم سونے کو سونے سے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ تو اس میں زیادتی ہو اور نہ ادھار ۱؎“، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابوالولید! میری رائے میں تو یہ سود نہیں ہے، یعنی نقدا نقد میں تفاضل (کمی بیشی) جائز ہے، ہاں اگر ادھار ہے تو وہ سود ہے، عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ سے حدیث رسول بیان کر رہا ہوں اور آپ اپنی رائے بیان کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں سے صحیح سالم نکال دیا تو میں کسی ایسی سر زمین میں نہیں رہ سکتا جہاں میرے اوپر آپ کی حکمرانی چلے، پھر جب وہ واپس لوٹے تو مدینہ چلے گئے، تو ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابوالولید! مدینہ آنے کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے ان سے پورا واقعہ بیان کیا، اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے ان کے زیر انتظام علاقہ میں نہ رہنے کی جو بات کہی تھی اسے بھی بیان کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ابوالولید! آپ اپنی سر زمین کی طرف واپس لوٹ جائیں، اللہ اس سر زمین میں کوئی بھلائی نہ رکھے جس میں آپ اور آپ جیسے لوگ نہ ہوں“، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ عبادہ پر آپ کا حکم نہیں چلے گا، آپ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ عبادہ کی بات پر چلیں کیونکہ شرعی حکم دراصل وہی ہے جو انہوں نے بیان کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 18]
حضرت قبیصہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول کے صحابی عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ نے، جو (بیعت عقبہ میں) انصار کے نمائندے تھے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں روم کے علاقے میں جہاد کیا۔ (وہاں) انہوں نے دیکھا کہ لوگ سونے کی ڈلیوں کے بدلے دیناروں کا اور چاندی کی ڈلیوں کے بدلے درہموں کا لین دین کر رہے ہیں۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگو! تم سود کھا رہے ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ اس میں زیادتی ہو نہ ادھار“۔“ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابو الولید! میرے خیال میں سود وہی ہے جس میں ادھار ہو۔“ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سناتا ہوں اور آپ مجھے اپنی رائے بتاتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ مجھے (اس جہاد سے صحیح سلامت) واپس لے گیا تو میں اس علاقے میں نہیں رہوں گا جہاں مجھ پر آپ کی حکومت ہو۔“ جب وہ جہاد سے واپس ہوئے تو (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام جانے کے بجائے) مدینہ جا پہنچے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابوالولید! آپ یہاں کیوں تشریف لے آئے؟“ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان فرمایا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہنے کے بارے میں جو کچھ کہا تھا، وہ بھی بیان فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابوالولید! اپنے علاقے میں واپس چلے جائیے، اللہ برا کرے اس علاقے کا، جس میں آپ اور آپ جیسے افراد نہ ہوں۔“ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا: ”عبادہ رضی اللہ عنہ پر آپ کی کوئی حکومت نہیں اور عبادہ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کہا ہے، لوگوں سے اسی کے مطابق عمل کراؤ، کیونکہ (شریعت کا) حکم یہی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 18]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5106، ومصباح الزجاجة: 6)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساقاة 15 (1587)، سنن ابی داود/البیوع 12 (3349)، سنن الترمذی/البیوع 23 (1240)، سنن النسائی/البیوع 42 (4567)، مسند احمد (5/314)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2554)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2254) (صحیح)» (بوصیری کہتے ہیں کہ اس حدیث کی اصل صحیحین میں عبادہ رضی اللہ عنہ سے قصہ مذکورہ کے بغیرمروی ہے، اور اس کی صورت مرسل ومنقطع کی ہے کہ قبیصہ کو قصہ نہیں ملا، امام مزی کہتے ہیں: قبیصہ کی ملاقات عبادہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہوئی)
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک ہاتھ لو اور دوسرے ہاتھ دو۔ عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوالولید ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور کھجور کا کھجور سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2253]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کا سونے سے تبادلہ سود ہے مگر دست بدست ہو (تب سود نہیں)، گندم کا گندم سے تبادلہ سود ہے سوائے اس کے کہ دست بدست ہو، جو کا جو سے تبادلہ سود ہے مگر جب دست بدست ہو، کھجور کا کھجور سے تبادلہ سود ہے الا یہ دست بدست ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 54 (2134)، 74 (2170)، 76 (2174)، صحیح مسلم/البیوع 37 (1586)، سنن ابی داود/البیوع 12 (3348)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1243)، سنن النسائی/البیوع 39 (4562)، (تحفة الأشراف: 10630)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 17 (38)، مسند احمد (1/ 24، 25، 45)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2620) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے، لیکن ابوسعید کی روایت میں جو صحیحین میں وارد ہے، دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں تفاضل (کمی بیشی) اور نسیئہ (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو درست ہے، اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2254
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَاهُ، قَالَا: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَمُعَاوِيَةَ إِمَّا فِي كَنِيسَةٍ وَإِمَّا فِي بِيعَةٍ، فَحَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، فقَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ"، قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ" وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا".
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں کسی کلیسا یا گرجا میں اکٹھا ہوئے، تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کو چاندی سے، اور سونے کو سونے سے، اور گیہوں کو گیہوں سے، اور جو کو جو سے، اور کھجور کو کھجور سے بیچنے سے منع کیا ہے۔ (مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید ان دونوں میں سے ایک نے کہا ہے: ”اور نمک کو نمک سے“ اور دوسرے نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے) اور ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم گیہوں کو جو سے اور جو کو گیہوں سے نقدا نقد (برابر یا کم و بیش) جس طرح چاہیں بیچیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2254]
حضرت مسلم بن یسار اور حضرت عبداللہ بن عبید رحمہما اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”(کسی سفر میں) ایک منزل پر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی کسی گرجا یا (یہود کے) معبد میں باہم ملاقات ہو گئی۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے (حاضرین کو) حدیث سناتے ہوئے فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے میں چاندی کی، سونے کے بدلے میں سونے کی، گندم کے بدلے میں گندم کی، جو کے بدلے میں جو کی، اور کھجور کے بدلے میں کھجور کی، ایک روایت کے مطابق: اور نمک کے بدلے میں نمک کی خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ اور ہمیں جو کے بدلے میں گندم یا گندم کے بدلے میں جو کی دست بدست بیع کرنے کا حکم دیا جیسے ہم چاہیں (مقدار کی کمی بیشی کے ساتھ)۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 41 (4564)، 42 (4566)، (تحفة الأشراف: 5113)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/320)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2621) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2255
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالْحِنْطَةَ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاندی کو چاندی سے، اور سونے کو سونے سے، اور جو کو جو سے اور گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2255]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاندی کے بدلے میں چاندی، سونے کے بدلے میں سونا، جو کے بدلے میں جو، اور گندم کے بدلے میں گندم برابر برابر (تبادلہ) ہونا چاہیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 15 (1588)، سنن النسائی/البیوع 44 (4573)، (تحفة الأشراف: 13625)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (20)، مسند احمد (2/232) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان میں تفاضل (کمی بیشی) درست نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2256
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْزُقُنَا تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ، فَنَسْتَبْدِلُ بِهِ تَمْرًا هُوَ أَطْيَبُ مِنْهُ وَنَزِيدُ فِي السِّعْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَصْلُحُ صَاعُ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ، وَلَا دِرْهَمٌ بِدِرْهَمَيْنِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا إِلَّا وَزْنًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مختلف قسم کی مخلوط کھجوریں کھانے کو دیتے تھے، تو ہم انہیں عمدہ کھجور سے بدل لیتے تھے، اور اپنی کھجور بدلہ میں زیادہ دیتے تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور سے اور ایک درہم کو دو درہم سے بیچنا درست نہیں، درہم کو درہم سے، اور دینار کو دینار سے، برابر برابر وزن کر کے بیچو، ان میں کمی بیشی جائز نہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2256]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ادنیٰ قسم کی کھجوریں عنایت فرماتے۔ ہم ان کے بدلے میں ان سے بہتر کھجوریں، زیادہ نرخ پر خرید لیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک صاع کھجوروں کا دو صاع سے تبادلہ یا ایک درہم کا دو درہموں سے تبادلہ جائز نہیں۔ درہم کے بدلے میں درہم اور دینار کے بدلے میں دینار ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان، سوائے وزن کی کمی بیشی کے، کوئی فضیلت نہیں۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 20 (2080)، صحیح مسلم/البیوع 39 (1588)، سنن النسائی/البیوع 39 (4559)، (تحفة الأشراف: 4422)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (21)، مسند احمد (3/49، 50، 51) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2259
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ"، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ احْفَظُوا.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو چاندی سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد“۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ کو کہتے سنا: یاد رکھو کہ سونے کو چاندی سے یعنی باوجود اختلاف جنس کے ادھار بیچنا «ربا» (سود) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2259]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاندی کے بدلے میں سونا لینا سود ہے مگر جب دست بدست ہو (پھر نہیں)۔“ ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”چاندی کے بدلے میں سونا، یاد رکھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2253) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2260
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ: أَقْبَلْتُ، أَقُولُ: مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ، فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَرِنَا ذَهَبَكَ، ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَازِنُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ، فَقَالَ عُمَرُ: كَلَّا وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں یہ کہتے ہوئے آیا کہ کون درہم کی بیع صرف کرتا ہے؟ یہ سن کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بولے، اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے: لاؤ مجھے اپنا سونا دکھاؤ، اور دے جاؤ، پھر ذرا ٹھہر کے آنا، جب ہمارا خزانچی آ جائے گا تو ہم تمہیں درہم دے دیں گے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! یا تو اس کی چاندی دے دو، یا اس کا سونا اسے لوٹا دو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”چاندی کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2260]
حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے (کسی مجلس میں) آ کر کہا: ”ہمیں (دیناروں کے) بدلے میں درہم کون دے گا؟“ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”ہمیں اپنا سونا دکھاؤ، پھر جب ہمارا خزانچی آئے گا تو ہمارے پاس آنا، ہم آپ کو آپ کی چاندی (درہموں کی صورت میں) ادا کریں گے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قسم ہے اللہ کی! ایسے نہیں ہو سکتا، آپ اسے چاندی (ابھی) ادا کریں، یا اس کا سونا واپس کر دیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سونے کے بدلے میں چاندی (لینا یا دینا) سود ہے مگر دست بدست جائز ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2253) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2261
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِوَرِقٍ، فَلْيَصْطَرِفْهَا بِذَهَبٍ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِذَهَبٍ فَلْيَصْطَرِفْهَا بِالْوَرِقِ وَالصَّرْفُ هَاءَ وَهَاءَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دینار کو دینار سے، اور درہم کو درہم سے بیچو ان میں کمی بیشی نہ ہو، اور جس کو چاندی کی حاجت ہو تو وہ اس کو سونے سے بھنا لے، اور جس کو سونے کی حاجت ہو اس کو چاندی سے بھنا لے، لیکن یہ نقدا نقد ہو، ایک ہاتھ سے لے دوسرے ہاتھ سے دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2261]
حضرت عمر بن محمد بن علی بن ابی طالب اپنے والد (حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ) سے اور وہ ان کے دادا (اور اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دینار کے بدلے میں دینار ہے اور درہم کے بدلے میں درہم۔ ان میں کوئی کمی بیشی (جائز) نہیں۔ جس کو چاندی کی ضرورت ہو، وہ سونے کے بدلے میں اسے حاصل کر لے، اور جسے سونے کی ضرورت ہو، وہ چاندی کے عوض تبادلہ کر کے لے لے۔ اور صَرف (درہم و دینار کا باہمی تبادلہ) ہاتھوں ہاتھ ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 2261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10271، ومصباح الزجاجة: 796) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عباس بن عثمان بن شافع: لا يعرف حاله (تقريب:3179)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
إسناده ضعيف
عباس بن عثمان بن شافع: لا يعرف حاله (تقريب:3179)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459