سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب : فضل من تعلم القرآن وعلمه
باب: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب۔
حدیث نمبر: 212
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے افضل وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 212]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے افضل وہ ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اس کی تعلیم دے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 211
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ شُعْبَة:" خَيْرُكُمْ"، وَقَالَ سُفْيَانُ:" أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(شعبہ کہتے ہیں:) تم میں سب سے بہتر (کہا)، (اور سفیان نے کہا:) تم میں سب سے افضل (کہا) وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 211]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔“ ایک روایت میں راوی سفیان کے یہ لفظ ہیں: ”تم میں سے افضل وہ ہے۔۔۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 21 (5027)، سنن ابی داود/الصلاة 349 (1452)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 15 (2907)، (تحفة الأشراف: 9813)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 57، 58، 69)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 2 (3341) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کلام اللہ چونکہ سب کلاموں سے افضل ہے، اس لئے اس کا سیکھنے والا اور سکھانے والا بھی افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 213
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ"، قَالَ: وَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا أُقْرِئُ.
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں“۔ عاصم کہتے ہیں: مصعب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میری اس جگہ پر بٹھایا تاکہ میں قرآن پڑھاؤں۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 213]
عاصم بن بہدلہ نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے وہ لوگ بہتر ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔“ عاصم نے کہا: ”مصعب بن سعد نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اس جگہ بٹھایا کہ میں قرآن پڑھاؤں۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3944، ومصباح الزجاجة: 78)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/فضائل القرآن 2 (3382) (حسن صحیح)» (اس حدیث کی سند میں مذکور راوی ''الحارث بن نبہان'' ضعیف ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1172)
وضاحت: ۱؎: عاصم بن بہدلہ: یہ عاصم بن ابی النجود ہیں، جو امام القراء ہیں، اور ان کی قراءت معتمد اور حجت مانی گئی ہے، اس وقت عاصم کی قراءت ہی عام اور مشہور قراءت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لضعف الحارث بن نبھان ‘‘ وھو متروك
والحديث السابق (الأصل: 211) يغني عن حديثه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لضعف الحارث بن نبھان ‘‘ وھو متروك
والحديث السابق (الأصل: 211) يغني عن حديثه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382