🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : إذا وقعت الحدود فلا شفعة
باب: جائیداد کی حد بندی کے بعد حق شفعہ نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2498
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّرِيكُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شریک (ساجھی دار) اپنی قریبی جائیداد کا زیادہ حقدار ہے، خواہ کوئی بھی چیز ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2498]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شریک اپنے قریب کی (مشترک) جگہ کا زیادہ حق دار ہے جو کچھ بھی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرحدیث رقم: (2495) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2495
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے نزدیکی مکان کا زیادہ حقدار ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2495]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمسایہ اپنے قریب کی جگہ (مکان یا زمین) کا زیادہ حق دار ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشفعة 2 (2258)، الحیل 14 (6977)، 15 (6981، 6978)، سنن ابی داود/البیوع 75 (3516)، سنن النسائی/البیوع 107 (4706)، (تحفة الأشراف: 12027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/389، 390، 6/10، 390) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں